وفاقی آئینی عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات اور قبضے کی رپورٹ طلب کرلی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ ریلوے کے بہترین کلب اوراسپتال تھے وہ بھی ختم ہوگئے۔ ریلوے کی زمین پر کچی آبادیاں انڈسٹری اور گوٹھ بن گئے ہیں۔افسران اے سی روم میں بیٹھے ہیں تو زمینوں پر قبضہ ہی ہو گا۔
عدالت نے سوال کیا کہ ریلوے نے ملکیتی زمین کی واپسی کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں ؟ ریلوے اراضی پر تجاوزات اور قبضہ کے ذمہ دار افسران کےخلاف کیا کارروائی کی گئی ؟ کیا ریلوے کو اراضی تجاوزات اور قبضہ کیلئے دی گئی تھی ؟ کیا ریلوے کی زمین کو زیر استعمال لانے کا کوئی پلان ہے؟ ریلوے کو ساری زمین واپس مل جائے تو کیا کریں گے ؟ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا قیام پاکستان کے وقت کتنی ٹرینیں چلتی تھیں ۔ آج ریلوے کی ٹرینوں اور پٹریوں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے ۔
صوبائی حکومت نے وفاق کی زمین کچی آبادی کو کیسے الاٹ کردی؟ ریلوے کو تجاوزات کے خاتمہ سے کس نے روکا ہے؟تجاوزات بن رہی تھیں قبضہ ہو رہا تھا ریلوے آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا۔زمین کی واگزاری کیلئے کسی نے ریلوے کے ہاتھ نہیں باندھ رکھے؟ دو رکنی بینچ نے ریلوے اراضی پر قبضوں اور تجاوزات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔



















