غیر ملکی جریدے دی اکانومسٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے متعلق آرٹیکل لکھنے والی صحافی بشریٰ تسکین نے سماء نیوز کے پروگرام ’ میرے سوال‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی میڈیامیں آج جیسی اسٹوری پہلے نہیں ہوئی، ایک سال سے آج والی اسٹوری پر کام ہورہا تھا، جنوری میں پاکستان میں ریکارڈنگ شروع کی،اس کےبعد تصدیق ہوتی رہی۔
مکمل پروگرام دیکھئے:
بشریٰ تسکین کا کہناتھا کہ میں نہیں مانتی کہ ہمیں کسی سیاسی قوت یا کسی نے اسٹوری کرنے کا کہا، میرا نہیں خیال دی اکانومسٹ جیسا ادارہ ایسا کوئی کام کرے گا، پیڈ اسٹوری کے الزامات لگانے والے ثبوت دیں، ہم نے 27 ویں ترمیم کے ساتھ اپنی ٹائم لائن میچ نہیں کی، بیرسٹر گوہر یا پی ٹی آئی والے کہہ رہے ہیں ہم نے لفافہ لیاہے، ہم بھی عدالت جانے کا حق رکھتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ بیرسٹر گوہر عدالت جائیں، اسٹوری کے دوران علیمہ خان سے ہماری ملاقات ہوئی، علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کیخلاف کوئی لفظ استعمال نہیں کیا، علیمہ خان نے کہا بشریٰ بی بی کی بات کرنے پر بانی کہتےہیں چپ کر جاؤ، علیمہ خان سے جنوری 2025 میں ملاقات ہوئی۔






















