انٹیلی جنس بیورو ڈویژن اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی میں جوڈیشل کمپلیکس حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے دہشت گرد سیل کے 4 کارندوں کو گرفتار کرلیا۔
خودکش حملہ آور کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا نے دوران تفتیش اعتراف کرلیا۔ ساجد اللہ کا کہنا ہے کہ حملے کی ہدایت ٹی ٹی پی فتنہ الخوارج کے کمانڈر سعیدالرحمان عرف داد اللہ نے دی۔ سعید الرحمن چرمانگ، باجوڑ کا رہائشی اس وقت افغانستان میں مقیم ہے۔
ساجد اللہ عرف شینا کا مزید کہنا ہے کہ سعید الرحمان عرف داد اللہ باجوڑ کے علاقے نواگئی کے لیے ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف ہے، سعید الرحمان نے ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے رابطہ کرکے خودکش حملہ کرانے کا کہا، حملے کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔
داد اللہ نے ہی ساجد اللہ عرف شینا کو خودکش بمبار عثمان عرف ’’قاری“ کی تصاویر بھیجیں، ساجد اللہ عرف شینا کا کام خودکش بمبار عرفان عرف قاری کو پاکستان میں وصول کرنا تھا، خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کا تعلق شنواری قبیلے سے تھا۔
خودکش بمبار عثمان عرف قاری افغان صوبہ ننگرہار کے علاقے اچین کا رہائشی تھا، خودکش بمبار افغانستان سے آیا تو ساجد الله عرف ”شینا“ نے اسے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرایا۔
کمانڈر داد الله کی ہدایت پر ساجد الله عرف ”شینا“ نے اکھن بابا قبرستان پشاور سے خودکش جیکٹ لی، ساجد اللہ ہی خودکش جیکٹ اسلام آباد لایا اور دھماکے کے روز خودکش بمبار عثمان کو پہنائی۔ فتنہ الخوارج افغانستان میں موجود اعلیٰ قیادت ہر قدم پر رہنمائی کر رہی تھی۔
واقعے میں ملوث پورا سیل پکڑا جا چکا،آپریشنل کمانڈر 3 ساتھیوں سمیت گرفتار ہو چکا ہے، تحقیقات جاری ہیں، مزید انکشافات اور گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
دوسری جانب خودکش بمبار کو کرائے پر کمرہ دلوانے والے سہولت کار اور مالک مکان کو حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق خودکش بمبارایک بار ویزے پر بھی پاکستان آچکا ہے۔ حملہ آور واقعے کے23روز قبل اپنے ساتھی کے ہمراہ پنڈپراچہ آیا۔ خودکش بمبار25-2024میں متعدد بار پاکستان اور افغانستان آتا جاتا رہا۔



















