سینیٹ نے قومی اسمبلی سے منظور کردہ پاکستان آرمی ، ایئرفورس اور نیوی ترمیمی بلز کی منظوری دے دی۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی منظور کرلیا گیا۔
چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں سینیٹ نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔ قائد ایوان اسحاق ڈار نے بل پیش کیا۔
سینیٹ نے پاکستان فضائیہ ترمیمی بل 2025کی بھی منظوری دےدی، پاکستان فضائیہ ترمیمی بل2025سینیٹر اسحاق ڈار نے پیش کیا۔ سینیٹ نے پاکستان نیوی آرڈیننس1961میں مزید ترمیم کا بل بھی منظورکرلیا، بل وزیردفاع خواجہ آصف نےایوان میں پیش کیا۔
سینیٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل2025کی منظوری دےدی، بل وفاقی وزیر ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ اس کے علاوہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 میں ترامیم کا بل پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
آرمی ایکٹ ترمیمی بل کےمطابق چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاعہدہ 27نومبر 2025 سے ختم تصور ہو گا۔ اب آرمی چیف چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے۔ اس عہدے کی مدت 5 سال ہے جو نوٹیفیکیشن کے دن سے شروع ہو گی ۔ وزیراعظم کو آرمی چیف کی سفارش پر 3 سال کے لئے جنرل کے عہدہ کے ایک افسر کی بطور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تقرری کا اختیار دیا گیا ہے۔ وہ اس عہدے پر مزید 3 سال کے لئے دوبارہ تعیناتی اور توسیع کے بھی مجاز ہوں گے ۔
آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے وفاقی حکومت کو چیف آف ڈیفنس فورسز کے فرائض کے تعین کا اختیار دیا گیا ہے ۔ البتہ ان کی ذمہ داریوں کو محدود نہیں کر سکے گی ۔ پاک فوج کے جنرل ، فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی کے بعد ذیلی سیکشن دو کے تحت خدمات انجام دیں گے ۔ پاکستان ایئرفورس اور پاک بحریہ کے ایکٹس میں ترمیم سے دونوں میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے متعلق شقیں ختم کر دی گئی ہیں۔






















