مخدوم علی خان نے بطور ممبر لا اینڈ جسٹس کمیشن کے عہدے سے استعفٰی دے دیااور کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم نے آزاد عدلیہ کا جہاز مکمل ڈبو دیا۔
مخدوم علی خان نے اپنا استعفیٰ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھجوا دیاہے ، جس میں کہا آئینی ترمیم کے بعد نوجوان وکلا کے چہروں پر چھائی اداسی دیکھ اور محسوس کر سکتا ہوں، خیال تھا کہ چھبیسویں ترمیم کے بعد بھی زوال سے بچنا ممکن ہے، حقیقت پسندوں نے خبردار کیا تھا کہ میں حقیقت سے بے خبر ہوں۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ زخموں سے چور ہو چکا تھا لیکن ڈوبا نہیں تھا، امید تھی کہ وکالت کامیاب ہوگی اور بہتری کا راستہ نکلے گا، لیکن ستائیسویں ترمیم نے آزاد عدلیہ کا جہاز مکمل ڈبو دیا۔ آزاد عدلیہ تباہ ہوچکی ہے، اب قانون و انصاف کمیشن کا حصہ نہیں رہ سکتا۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی اصلاح ممکن نہیں، چیف جسٹس نےبطور چیئرمین لا اینڈ جسٹس کمیشن مخدوم علی خان کو ممبرمقرر کیا تھا۔



















