مشیر وزیراعظم اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ دینے والے ججز لائق احترام ہیں، ہمارامؤقف درست ثابت ہو گیا دونوں ججز کا ذاتی اور سیاسی ایجنڈا تھا، آرمی ایکٹ میں موجود ہے فیلڈ مارشل کی نئی تقرری 5 سال کیلئے ہو گی، ہم پوری کوشش کریں گے کہ 28 ویں ترمیم بھی جلد ہو۔
تفصیلات کے مطابق راناثنااللہ کہنا تھا کہ دونوں ججز کےخط سیاسی تقریر ہے، ججز نے کس طرح کہا کہ 27 ویں ترمیم آئین پر حملہ ہے؟ ان ججز نے اپنے چیمبرز کے جونیئر سے ہائیکورٹ کو بھر دیا، جج کے تبادلے کے وقت متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز بیٹھیں گے، تبادلے سے انکار کرنے والے جج کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جائےگا۔
سینیٹر رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ صرف گفتگو اور تقریر کرنی ہے تو پھر کسی وجہ کی ضرورت نہیں، جوڈیشل کمیشن انسٹیٹیوشنلائز ہے، 27ویں ترمیم نوٹیفائی ہو گئی،جوڈیشل کمیشن اب موجود نہیں رہا، 27ویں ترمیم کے بعد نیا جوڈیشل کمیشن بنے گا، اب وفاقی آئینی عدالت بنائی جائے گی، سپریم کورٹ کے ججز میں سے ہی آئینی عدالت کے ججز مقرر کیے جائیں گے، جو جج از خود نوٹس سے وزیراعظم کو فارغ کرے کیا وہ آزاد اور انصاف پسند ہوتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل کی نئی تعیناتی ہو گی،نوٹیفکیشن جاری ہو گا، اگلے 2 دن میں فیلڈ مارشل کی 5 سال کیلئے تعیناتی کا نوٹیفکیشن ہو جائے گا، آرمی ایکٹ میں موجود ہے فیلڈ مارشل کی نئی تقرری 5 سال کیلئے ہو گی، ایئر فورس اور نیول چیف کی نئی تقرری نہیں ہو گی۔
ان کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ کےججزمیں سےہی آئینی عدالت کے ججز مقرر کیے جائیں گے، وزیراعظم کو صرف ایک بار آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار دیا گیا، جسٹس امین الدین خان بطور چیف آف آئینی بینچ کام کر رہے تھے،انہیں کا تقرر ہونا چاہیے۔
رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ اگرافغانستان بفرزون پر آمادہ نہ ہوا تو پاکستان خود قائم کر دے گا، اتفاق رائے ہو جائے تو جلد28ویں ترمیم آنی چاہیے، ہم پوری کوشش کریں گےکہ28ویں ترمیم بھی جلد ہو۔






















