وفاقی حکومت کو فنڈز کی قلت کا سامنا ہے۔ موجودہ مالی سال کےابتدائی چار ماہ میں ترقیاتی منصوبوں پر صرف 76ارب روپے خرچ کئے گئے، جو ایک ہزار ارب روپے کے سالانہ پی ایس ڈی پی کا صرف 7.6 فیصد ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کےدباؤ پر ترقیاتی بجٹ میں 300ارب روپے کی کٹوتی متوقع ہے۔
رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کی تفصیلات جاری کردی گئی۔ بجٹ سرپلس اور پرائمری سرپلس کےباوجود وفاقی ترقیاتی پروگرام سست روی کا شکار ہے ۔ رواں مالی سال کے 1000 ارب روپےکے وفاقی پی ایس ڈی پی میں سے جولائی تا اکتوبر صرف 7.6 فیصد فنڈز یعنی 76 ارب روپے ہی خرچ کئے جا سکے، حالانکہ اس مدت کیلئے 330 ارب 43 کروڑ روپے کے اجرا کی منظوری دی گئی تھی۔ ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے24 ارب 63کروڑ جاری کرنےکی منظوری تو ہوئی لیکن کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی ۔ رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں عوامی نمائندوں کیلئے 70 ارب روپےمختص ہیں ۔
دستاویز کے مطابق مختلف وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز نے چار ماہ میں 53 ارب 93 کروڑ کے اخراجات کئے۔ جولائی تا اکتوبر صوبوں اور خصوصی علاقوں پر 16 ارب 48 کروڑ خرچ ۔ آبی وسائل کے منصوبوں پر 13 ارب 55 کروڑ ۔ ایچ ای سی کے پراجیکٹس پر 5 ارب 20کروڑ جبکہ وفاقی تعلیم کے منصوبوں پر 4 ارب 82 کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے ۔ ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں پر 4 ارب 32 کروڑ ، پلاننگ کمیشن نے 3 ارب 90 کروڑ استعمال کئے ۔ دفاع ڈویژن کے منصوبوں پر 1 ارب روہے سے زائد خرچ ہوئے ۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے دباؤ پر ترقیاتی بجٹ میں 300ارب روپےکی کٹوتی متوقع ہے۔ 4ماہ میں چھ وزارتوں کو کوئی فنڈز جاری نہیں کئے گئے ۔ جن میں کابینہ ڈویژن، کامرس اوراسٹیبلشمنٹ ڈویژن شامل ہیں ۔ پارلیمانی امور ، پیٹرولیم اور وزارت مذہبی امور کو بھی کوئی فنڈز جاری نہیں ہوئے۔






















