مسلم لیگ(ن)کے سینیٹر پرویز رشید نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو پیش کرنےکا فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی، اطلاع کےمطابق آئندہ ہفتے سے اس عمل کو شروع کر دیا جائے گا، نظام کو بہتر کرنے کیلئے اگر تبدیلیوں کی ضرورت ہوئی تو ترمیم کر لینی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق پرویزرشید نے کہا کہ ریاست،عوام اور حکومت کیلئے کوئی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں تو کر لینی چاہیے، اس وقت پاکستان کو استحکام ملا ہے،معیشت بہترہے،دنیا تعریف کرتی ہے، استحکام اور معیشت میں بہتری کیلئے ترامیم کی ضرورت ہے تو کرنی چاہیے، جو بھی کچھ کرنا ہے پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے، پارلیمنٹ میں اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی سوچ موجود ہے۔
پرویزرشید نے کہا کہ دھرنے اور یلغار کی سیاست کرتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں، ہر ایک کی تعداد اتنی ہے کہ ان کو نظر انداز کر کے کچھ نہیں کر سکتے، پارلیمانی پارٹیوں کو کوئی تجویز یا ترمیم پر پارلیمانی قوت استعمال کرنی چاہیے، سڑکوں پر قوت کے اظہار سے اپنا اور ملک کا نقصان کر سکتے ہیں ،بہتری نہیں لاسکتے، ہرپارٹی پارلیمانی کردار ادا کرے تو کسی ترمیم سے کوئی خوف یا خطرہ نہیں ہو گا۔
ان کا کہناتھا کہ اگر تجاویز کے بجائے شرطیں عائد کریں تو اتفاق رائے نہیں ہو سکےگا، 58 ٹو بی کے خاتمے کیلئے اختلافات ہونے کے باوجود سب نے اتفاق رائے کیا۔ صحافی نے سوال کیا کہ کیا 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق نواز شریف سے بھی مشاورت کی گئی ہے، جس پر پرویز رشید نے جواب دیا کہ نواز شریف کے بغیر سانس بھی نہیں لیتے،سانس ان کے نام کےساتھ چلتی ہے، شہباز شریف نے جس طرح بھائی کا کرادار ادا کیا،ایسا بھائی اللہ سب کو دے۔
پرویزرشید نے کہا کہ دیگرسیاسی جماعتیں بھی نواز شریف کی عزت کرتی ہیں، میثاق جمہوریت کی روح برقرار رکھنے کیلئے سب جماعتیں ان سے مشورہ کرتی ہیں، نوازشریف کی اجازت،مشاورت تجاویز اور رہنمائی سے ساری سیاست کرتے ہیں۔





















