وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی، دہشتگرد افغانستان سےآپریٹ ہو رہے ہیں، دہشتگردوں نے ہمارے جوانوں،افسران کو شہید کیا، حالیہ واقعات سے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ہے، امن کیلئے ہم نے کئی بار ان سے اچھے انداز میں بات کی ، افغانستان کی جانب سے پاکستان پر حملہ بھارتی ایما پر ہوا، جس وقت حملہ ہو رہا تھا تو افغان وزیر خارجہ بھارت میں تھے، ہمیں جواب دیناپڑا،پھر انہوں نے سیزفائر کی درخواست کی ۔
وزیراعظم شہبازشریف کا کہناتھا کہا ہم نے 48 گھنٹوں کی سیزفائر کے لیے درخواست قبول کی، اگر وہ سنجیدہ ہیں توبات آگے بڑھائیں، قطر اور دوست ممالک مسئلہ حل کرانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، فتنہ الخوارج کا خاتمہ ہونا چاہیے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی لیڈر شپ میں منہ توڑ جواب دیا گیا، جو دہشتگرد پاکستان پر حملہ آور ہیں ان کا خاتمہ ضروری ہے، 2018میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، اس وقت کی حکومت نے دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دی، وقت گزاری کیلئے جنگ بندی قبول نہیں، افغانستان کو مستقل جنگ بندی کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، اب گیند افغانستان کی کورٹ میں ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایک شہیدکی والدہ نے مجھے کہا فتنہ الخوارج کا خاتمہ کرتے ہوئے شہید ہوا، بیٹے نے پاکستان کی حفاظت کیلئے جان قربان کی۔
انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں بات ہوئی غزہ میں ہزاروں بچے قربان کیےگئے، آپ کے سامنے بچے،بچیاں شہید ہو رہی ہو، آپ اللہ کو مدد کیلئے نہیں یاد کریں گے، شرم الشیخ میں میں نے،فیلڈمارشل، یہ ممالک کے سربراہان نے کوششیں کیں، 74ہزار لوگ شہید کیے گئے،دنیا میں ایسا ظلم نہیں دیکھا، فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے، انہیں ان کا حق ملنا چاہیے۔
ان کا کہناتھا کہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہو گیا، آئی ایم ایف کی اگلی قسط جلد ملے گی، پاکستان اس لیے نہیں بنا کہ قرضے لیتے رہیں، آئی ایم ایف کا قرضہ آخری ہو گا، قرضوں سے جان چھڑائیں گے، انشاء اللہ پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے۔






















