وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں ریاستی سرپرستی حاصل ہے جہاں سے وہ ہم پر حملہ کرتے ہیں، دہشتگرد نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں انہیں کسی صورت رعایت نہیں دیں گے، ’را ‘اور دہشتگردوں کے کیمپس افغانستان میں ہیں، حقوق نہ ملنے پر لوگوں کا قتل عام کرنا کہاں کا انصاف ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ کل ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا تھا ، کل ہماری فورسز اس گھر تک پہنچیں جہاں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے، فورسز پر اس گھر سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ ایک دہشت گرد جہانزیب نے سرنڈر کیا ، جو ان کا ساتھی زندہ گرفتار ہوا یہ دہشت گرد دالبندین کے علاقے میں دہشت گردوں کی بھرتی کرتا تھا ، یہ ایک ہارڈ کور دہشت گرد گرفتار ہوا ہے یہ دالبندین میں اسلحہ سپلائی کرتا تھا۔دہشت گردوں کو افغانستان میں ’ محفوظ پناہ گاہیں’ اور تربیتی کیمپ چلانے کی جگہیں فراہم کی جاتی ہیں۔ حال ہی میں مارے گئے دہشت گردوں میں سے بہت سے دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے تھے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہناتھا کہ ماہ رنگ بلوچ کے جلسے سے پہلے بی ایل اے کا ترانہ پڑھا جاتا ہے، یہ انتہا پسند قومی پرچم اور ترانے کو نہیں مانتے، بطور پاکستانی میں کلبھوشن یادو کو اپنے لوگوں کا قاتل سمجھتا ہوں، اس کی پھانسی پر عملدرآمد کا فیصلہ وفاق نے کرنا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن کےلیےاقدامات کررہے ہیں، دہشتگردوں کےخلاف سخت ترین زمیینی اور فضائی آپریشنز جاری ہیں، ریاست کی رٹ کو کسی صورت چیلنج نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فورسز نے گزشتہ روز دہشت گردوں کے خلاف اہم کارروائی کی، ہم نے چاغی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، آپریشن میں زبیر نامی شخص اور اس کا ساتھی مارا گیا، اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ زبیر ایک وکیل تھا۔
انہوں نے بتایا کہ دہشتگرد زبیر عرف شاہ جی چینی باشندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا تھا اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے تخریبی منصوبہ بندی کرتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں ایک سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوا جس کی صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں۔






















