پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع ہوگئے،حکومت کی معاشی ٹیم نے ابتدائی بات چیت میں ڈیٹا شیئرنگ شروع کر دی۔
چیئرمین ایف بی آر کی سربراہی میں حکام کی آئی ایم ایف وفد سےملاقات ہوئی،ایف بی آر ممبران لینڈ ریونیو آپریشنز اورممبرلیگل مذاکرات میں شریک ہوئے،پاکستان حکام نےآئی ایم ایف وفدکوموجودہ مالی سال کے ٹیکس ریونیو اہداف پر بریفنگ دی گئی،ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے کیلئےممکنہ متبادل پلان سے بھی آگاہ کیا گیا۔
آئی ایم ایف کوبریفنگ دی گئی کہ حالیہ شدید سیلاب سے ٹیکس ریونیو پربھی منفی اثر پڑا،اس کے علاوہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے قانون سازی میں پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔
آئی ایم ایف کا مشن آج سہ پہر وزارت خزانہ کے حکام سے بھی ملاقات کرےگا ،صوبائی حکومتوں سے بھی آئی ایم ایف کے الگ الگ مذاکرات ہوں گے۔
پاکستان نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث قرض شرائط میں نرمی کی درخواست کررکھی ہے،،آئی ایم ایف کسی ریلیف پیکج سے قبل بجٹ اور فنڈز کے استعمال کا جائزہ لے گا،سیلاب سےمتعلق اخراجات پورے کرنے کیلئے فلڈ لیوی سمیت مختلف آپشن زیرغور ہیں،مجوزہ فلڈ لیوی سےحاصل آمدن صرف وفاقی حکومت استعمال کر سکے گی،صوبائی حکومتیں بھی سیلابی اخراجات کیلئے اپنےریونیو میں اضافہ کریں گی۔
حکام ایف بی آر کےمطابق اضافی ٹیکس ریونیو کیلئےمنی بجٹ لانےکی کوئی تجویزنہیں،اضافی ٹیکسوں کےبجائےبجٹ میں رکھے ایمرجنسی فنڈز استعمال کرنےکا پلان ہے،آئی ایم ایف نےحکومت سے ہنگامی فنڈز کےاستعمال کی تفصیلات طلب کر لیں۔
وفدپاکستان میں 2 ہفتے قیام کےدوران تکنیکی اورپالیسی سطح کےمذاکرات کرےگا،پاکستان کی معیشت کےدوسرےکامیاب جائزےکی تکمیل پر ایک ارب ڈالرکی اگلی قسط ملے گی،وزیر خزانہ محمداورنگزیب کے دورہ امریکا کے باعث باقاعدہ مذاکرات 29 ستمبر سے شروع ہوں گے۔
رواں مالی سال ہنگامی اخراجات کیلئےبجٹ میں 389 ارب روپےرکھےگئے ہیں،گزشتہ مالی سال کےمقابلے ہنگامی اخراجات کا رواں بجٹ 166 ارب روپے زیادہ ہے،گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں اس مد میں 223 ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔






















