امریکا کی یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں قاتلانہ حملےمیں قدامت پسند رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک جان سےگئے،چارلی کے قتل کے بعد ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا گیا، وائٹ ہاؤس میں امریکی پرچم تین دن تک سرنگوں رہے گا۔
تفصیلات کےمطابق حملے کے وقت چارلی کرک یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں طلبا سےخطاب کر رہے تھے۔ اُنھیں گردن میں گولی لگنے کے بعد تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے چارلی جیسے عظیم امریکیوں کو نازیوں سے تشبیہہ دی،کہایہ بیانیا امریکا میں دہشت گردی کا باعث بن رہا ہے،انہوں نےانتہا پسندی کیخلاف سخت ایکشن کا اعلان کردیا۔
دوسری جانب ایف بی آئی نےحملے میں ملوث شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے،شناخت ظاہر نہیں کی ۔ حکام کے مطابق دوسرے حملہ آور سےمتعلق کوئی شواہد نہیں ملے۔ فائرنگ دو سو یارڈ کے فاصلے پر واقع عمارت سے کی گئی ۔
گورنر یوٹاہ نے واقعے کو سیاسی قتل قرار دے دیا۔ کہا امریکا میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ۔ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے چارلی کرک ٹرانس جینڈرز سے متعلق تقریر کر رہے تھے،حملے کے بعد بھگدڑ مچ گئی،لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔
خیال رہے کہ چارلی کرک اور اُن کی تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یوایس اے نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔






















