اسٹیٹ بینک نےکرپٹو کرنسی کو پاکستان میں غیر قانونی قرار دینے کی ایڈوائزری واپس لے لی۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا،اسٹیٹ بینک نےکرپٹوکرنسی کوپاکستان میں غیرقانونی قرار دینے کی ایڈوائزری واپس لےلی،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک نے بتادیا۔
سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی کی ویلیو ایک روپے کےبرابر ہوگی،سیکریٹری قانون نےکہا کرپٹو اورٹریڈنگ میں جرائم اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت دیکھےجائیں گے،کمیٹی ارکان نے مجوزہ بل میں ڈیجیٹل کرنسی رکھنے کی حد 10 ہزار ڈالر مقرر کرنےکی مخالفت کر دی،5 سال کا تجربہ رکھنے والوں اور زیادہ نوجوانوں کومجوزہ کرپٹو اتھارٹی کا رکن بنناے کی تجویزدی۔
سینیٹر افنان اللہ نےکہا اتھارٹی کےکسی ممبر کو خود ٹریڈنگ کرنےکی اجازت نہیں ہونی چاہئیے،یہ دعویٰ بھی کیاکہ ملک میں کرپٹوکرنسی کےحوالے سے 21 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری ہو بھی چکی،بل پر مزید غور کیلئےذیلی کمیٹی بھی بنا دی گئی۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹرسلیم مانڈوی والا کےمطابق کرپٹومائننگ میں مہنگی بجلی بڑی رکاوٹ چین کی کچھ کمپنیوں نےپاکستان سے رابطہ کرکےمائننگ کیلئے اپنی بجلی بنانےکی تجویز دی ہے،کرپٹو مائننگ والےیہاں آنا چاہتےہیں،یہ ڈیپینڈ کرتا ہےایک بزنس ماڈل ہےاگرٹھیک ہےتو آئیں گےاگرگورنر نےکہا سٹیٹ بینک ہےکہ وہ جو بینک اکاؤنٹ میں اپ کے پیسےہیں وہ ڈیجیٹل بھی ہوں گےصرف اس کا استعمال کا طریقہ انہوں نےڈیٹرن کرنا ہےابھی تک جتنی ٹریڈنگ ہو رہی تھی کرپٹو کی وہ ساری لی اس کو ہم لیگل کرنے جا رہے ہیں ۔
اجلاس میں سینیٹر افنان اللہ سیکریٹری قانون پر برہم بھی ہوئےکہامیرا بل چوری کرتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہئیے،کمیٹی چیئرمین بھی سرزنش کرتےہوئےبولےحکومت سورہی ہوتی ہےجیسےہی کوئی پرائیویٹ ممبر بل پیش کرے تو اس کا کریڈٹ لینے کیلئے جاگ جاتی ہے۔



















