امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی کو اپنی تقریر میں امریکا کا ذکر کرنا چاہیے تھا کیونکہ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے چین کی بہت مدد کی تھی۔
پولینڈ کے صدر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے پولش صدر کے ساتھ ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیا اور کہا کہ اگر پولینڈ چاہے تو وہاں مزید امریکی فوجی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے وینزویلا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا خطے میں انتہائی منفی کردار ادا کر رہا ہے اور لاکھوں مجرموں اور منشیات کو امریکہ بھیج رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کی غلط پالیسیوں سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ ڈیموکریٹس جرائم کی حمایت کرتے ہیں اور ریپبلکنز جرائم کے خلاف کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر شی کو تقریر میں امریکا کا ذکر کرنا چاہیے تھا، دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے چین کی بہت مدد کی تھی ، چین میں ہونے والی فوجی پریڈ بہت شاندار تھی اور صدر شی کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔
لازمی پڑھیں۔ چینی فوج قابل بھروسہ قوت، ہمیں ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا،چینی صدر
ٹرمپ نے کہا کہ اپنے دورِ صدارت میں انہوں نے سات جنگوں کا خاتمہ کرایا۔
روس کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میرے پاس پیوٹن کے لیے کوئی خاص پیغام نہیں، وہ جانتے ہیں میں کہاں کھڑا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایک یا دو ہفتوں میں واضح ہو جائے گا کہ روس کے ساتھ تعلقات کس سطح پر ہیں۔
شکاگو کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ شہر میں امن و امان خراب ہے اور صرف ایک ہفتے کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔





















