وزیر اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ( ن ) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نومبر 2027 تک آرمی چیف رہیں گے۔
سماء کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نومبر 2027 تک آرمی چیف رہیں گے۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر 2027 تک آرمی چیف رہیں گے ، اگر ان کی ایکسٹینشن نہیں ہوتی تو ریٹائر ہو جائیں گے ، لوگ یہاں 4,4 بار ایکسٹینشن لیتے رہے ہیں ، جنرل عاصم منیر نے نے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں ان سے زیادہ کون اس کا حقدار ہو گا ۔۔۔۔ مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ #Pakistan… pic.twitter.com/2WrJASSkAD
— Nadeem Malik 🇵🇰 (@nadeemmalik) September 3, 2025
ایئرچیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ قانون میں ترمیم کے بعد ایئرچیف کیلئے نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں پڑی اور جس دن ایئرچیف کی مدت ملازمت 5 سال پوری ہوگی تو ریٹائر ہوں گے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان پر ان سے زیادہ توسیع کے کون قابل ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قانون میں توسیع موجود ہے اور ملک میں 4، 4 بار توسیع ہوتی رہی جبکہ بعض لوگ خود توسیع لیتے رہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ جو بھی فیصلے ہوئے ہیں نواز شریف کی تائید سے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی 2029 تک اپنی مدت پورے کرے گی اور بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) جس کام پر لگے ہوئے ہیں وہ نہیں ہوسکتا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بانی جیل میں یا باہر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو ہماری طرف سے بات چیت کی پیشکش ہے۔
عمران خان کو اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا ، سیاست کریں لیکن وہ اس وقت جس کام پر لگے ہوئے ہیں وہ نہیں ہو سگتا ، عمران خان اس ملک میں سیاست نہیں چاہتے وہ سول وار چاہتے ہیں : رانا ثنااللہ#SamaaTv #Pakistan #NadeemMalikLive pic.twitter.com/5kpGKtICjy
— Nadeem Malik 🇵🇰 (@nadeemmalik) September 3, 2025
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے استحکام پاکستان کی بات کی ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی سول وار چاہتے ہیں ، کیا وہ ہونے دیں؟۔
ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی کا سیاسی احتجاج نہیں تھا بلکہ سول وار کی کوشش تھی۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانے پر کوئی بات نہیں ہو رہی تاہم این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی پر غور ہو رہا ہے ، وفاق مالی طور مشکل میں ہے جبکہ صوبوں کے پاس گنجائش موجود ہے ، کوشش کی جائے گی کہ اتفاق رائے سے معاملہ طے کیا جائے ۔






















