سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فلڈ ورننگ کے بعد ہماری پہلی ترجیح یہ تھی کہ ہم لوگوں کی جانیں بچائیں اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کریں ، اب تک ہم نے 58 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیاہے ، 10 ہزار کے قریب لوگوں کو ٹرانسپورٹ بھی کیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر رضوان نصیر کا کہناتھا کہ لوگوں کو بروقت نکالا گیا،تجاوزات اور نالوں کو کلیئر کر لیا ہے، ہماری تینوں دریاؤں میں703 کے قریب بوٹس چل رہی ہیں،وقت پر ریسکیو آپریشن کرنے کی وجہ سے کوئی اموات نہیں ہوئیں، ہمارے لیئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ تینوں دریاؤ ں میں طغیانی ہے، راوی میں سیلاب سے نارووال کا علاقہ متاثر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مون سون بارشوں میں اب تک 440 اموات ہو چکی ہیں وہ بھی زیادہ تر عمارتیں گرنے کے باعث ہوئیں ہیں، لوگوں کے گھر تھے جن کی حالت ٹھیک نہیں تھی، ان کی چھتیں گریں جس کی وجہ سے زیادہ تر اموات ہوئیں لیکن اب تینوں دریاوں میں جس طرح طغیانی آئی ہے ، اللہ کا شکرہے کہ وقت پر لوگوں کو نکال لیا تھا اور اس طرح کی کوئی اموات نہیں ہوئیں، دو چار واقعات ہوئے ہیں ۔ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ سیلابی پانی میں چلنے سے گریز کریں اور حکومت کی وارننگز پر عمل کریں، ہم نے 13 ہزار420 کے قریب جانوروں کو بھی ریسکیو کیاہے ۔






















