بنگلادیشی وزارت خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ ڈھاکا پر سرکاری اعلامیہ جاری کردیا ہے جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر یونس، اپنے ہم منصب اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں جن میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ویزہ پالیسی میں نرمی، فضائی رابطوں کی بحالی اور عوامی روابط کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لازمی پڑھیں۔ پاک بنگلہ دیش تعلقات میں اہم پیشرفت، تجارت کے فروغ کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزہ فری معاہدے سمیت متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔
پاکستان نے بنگلادیشی طلبہ کو جدید طبی علاج اور مصنوعی اعضاء کی فراہمی کی پیشکش کی جبکہ "پاکستان-بنگلادیش نالج کوریڈور" کے تحت 500 بنگلادیشی طلبہ کو وظائف دینے کا اعلان کیا گیا۔
لازمی پڑھیں۔ اسحاق ڈار کی بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اسحاق ڈار نے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر یونس کو وزیراعظم شہباز شریف کا تہنیتی پیغام بھی پہنچایا۔
بنگلادیشی وزارتِ خارجہ کے ایڈوائزر توحید حسین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔
مزید برآں دونوں ممالک نے نجی شعبے کی شراکت داری کو اہم قرار دیا اور اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کی۔
لازمی پڑھیں۔ ’ ہم ایک خاندان ہیں ، مل کر آگے بڑھنا چاہیے ‘، اسحاق ڈار کا 1971 سے متعلق بنگالی صحافی کے سوال پر جواب
اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور بنگلادیش نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا جبکہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور سارک سمیت عالمی فورمز پر مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم کیا۔





















