اسرائیل کے وزیر دفاع نے غزہ شہر کو فتح کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے اور اسے انجام دینے کے لیے تقریباً 60,000 ریزروسٹوں کو بلانے کی اجازت دی ہے ۔
اسرائیل کی وزرات دفاع کے ترجمان نے فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو تصدیق کی تھی کہ اسرائیل کے وزیر دفاع نے غزہ شہر کو فتح کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے جبکہ غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ میں جنگ بندی پر زور دینے والے ثالث اپنی نئی تجویز پر اسرائیل کے سرکاری ردعمل کا انتظار کر رہے تھے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حکومت کسی بھی معاہدے میں تمام مغویوں کی رہائی کے اپنے مطالبے پر قائم ہے۔
حماس نے جس فریم ورک کی منظوری دی تھی اس میں ابتدائی 60 دن کی جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، کچھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں امداد کے داخلے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔
اسرائیل اور حماس نے پوری جنگ کے دوران بالواسطہ مذاکرات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں دو مختصر جنگ بندی ہوئی جس کے دوران فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔
جنگ بندی کی نئی تجویز اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر کو فتح کرنے کے منصوبے کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے،اس خدشے کے باوجود کہ یہ پہلے سے تباہ کن انسانی بحران کو مزید خراب کر دے گا۔
قطر اور مصرنے شٹل ڈپلومیسی کے متواتر دوروں میں امریکی کی حمایت پرثالثی کی ہے۔قطر ی حکام نے کہا کہ نئی تجویز تقریباً ایک جیسی ہے جو اسرائیل کی طرف سے منظور کی گئی تھی، جبکہ مصر ی حکام نے کہا کہ گیند اب اس کےکورٹ میں ہے۔






















