روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس اور بھارت نے توانائی کے شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ماسکو نئی دہلی کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر مزید کام کرنے کا خواہاں ہے۔
ماسکو میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے ساتھ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ روسی تیل کی بھارتی مارکیٹ میں سپلائی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ دونوں ممالک مشرق بعید اور آرکٹک شیلف میں توانائی کے وسائل کے حصول کے لیے مشترکہ منصوبوں پر دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا نے بھارت کی روسی تیل کی درآمدات پر زیادہ ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے باعث روس نے اپنی تیل برآمدات یورپ سے ہٹا کر بنیادی طور پر چین اور بھارت کی طرف منتقل کر دی ہیں۔ اس وقت بھارت اور چین روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔
بھارت میں روسی سفارت خانے کے مطابق امریکا کے دباؤ کے باوجود بھارت کو تیل کی فراہمی جاری رہے گی۔ روس کو توقع ہے کہ جلد ہی بھارت اور چین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات بھی ہوں گے۔






















