چین پہلی بار یوان پر مبنی اسٹیبل کوائنز کے استعمال پر غور کر رہا ہے تاکہ اپنی کرنسی کو دنیا بھر میں زیادہ مقبول بنایا جا سکے۔ چین نے 2021 میں کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ اور مائننگ پر پابندی لگا دی تھی۔
برطانوی نیوز ایجنسی نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ چین کی اسٹیٹ کونسل اس ماہ ایک روڈمیپ پر غور کرے گی جس میں عالمی سطح پر یوان کے استعمال کو بڑھانے کے اہداف اور ملکی ریگولیٹرز کی ذمہ داریاں طے کی جائیں گی۔ اس منصوبے میں خطرات سے بچاؤ کی گائیڈ لائنز بھی شامل ہوں گی۔
چینی قیادت اس ماہ کے آخر تک ایک اجلاس کرے گی جس میں یوان کو عالمی کرنسی بنانے اور اسٹیبل کوائنز کے کردار پر بات ہوگی۔ اس اجلاس میں طے ہوگا کہ اسٹیبل کوائنز کو کہاں اور کس حد تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چین کافی عرصے سے چاہتا ہے کہ اس کا یوان بھی ڈالر یا یورو کی طرح عالمی کرنسی بنے، لیکن سخت مالیاتی کنٹرولز اور تجارتی سرپلس کی وجہ سے یہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ یہی سخت کنٹرولز مستقبل میں اسٹیبل کوائنز کی ترقی کے لیے بھی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
یوان کا عالمی ادائیگیوں میں حصہ صرف 2.88% ہے جبکہ ڈالر کا حصہ 47% سے زیادہ ہے۔
دوسری طرف امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیبل کوائنز کی حمایت کی ہے اور ڈالر پر مبنی کرپٹو کرنسی کے لیے ریگولیٹری فریم ورک تیار ہو رہا ہے، جس سے ان کو عالمی سطح پر زیادہ مقبولیت مل رہی ہے۔
اسٹیبل کوائنز کی خصوصیات
اسٹیبل کوائنز کی خاصیت یہ ہے کہ یہ عام کرنسی کے برابر رہتے ہیں، تیز، سستے اور بارڈر لیس لین دین ممکن بناتے ہیں، اسی وجہ سے یہ عالمی ادائیگیوں کے نظام میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔آنے والے ہفتوں میں چین کی حکومت اس منصوبے کی مزید تفصیلات جاری کرے گی، اور مرکزی بینک سمیت دیگر اداروں کو اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری دی جائے گی۔






















