امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چار ججوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں آئی سی سی کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف تحقیقات اور مقدمات کی کوششوں کے جواب میں لگائی گئی ہیں جبکہ ججز میں کینیڈا کی کمبرلی پروسٹ، فرانس کے نکولس گیو، فجی کی نزہت شمیم خان اور سینیگال کے مامے مندیائے نیانگ شامل ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ آئی سی سی نے امریکی اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف بغیر رضامندی تحقیقات اور قانونی کارروائیاں شروع کیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے آئی سی سی کو امریکا اور اس کے اتحادی اسرائیل کے لیے قومی سلامتی کا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی جنگ کا آلہ بن رہا ہے۔
روبیو نے زور دیا کہ امریکا اپنی فوج، اتحادیوں، اور قومی خودمختاری کو آئی سی سی کے "بے بنیاد اور غیر قانونی" اقدامات سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل فروری 2025 میں آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان اور دیگر ججوں پر بھی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔
آئی سی سی نے گزشتہ سال نومبر میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ، اور حماس کے رہنما ابراہیم المصری کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے جسے امریکا نے مسترد کر دیا تھا۔






















