زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین روس کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک سفارتی راستہ تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔یوکرین ، روس اور امریکہ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات چاہتا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ یوکرین کو روزانہ روسی حملوں کا سامنا ہے، اور اس کی مثال کے طور پر انہوں نے روس کا خارکیف پر رات کے وقت ہونے والا مہلک حملہ دیا۔
ان سے ایک سوال پوچھا گیا کہ یوکرین امن معاہدے میں نقشے دوبارہ بنانےکے لیے تیار ہے یا مزید چند برسوں تک یوکرینی فوجیوں کو موت کی طرف بھیجنے پر راضی ہےتو زیلنسکی نے براہِ راست جواب نہیں دیا لیکن انہوں نے جنگ روکنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کی تعریف کی۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھاکہ ہمیں اس جنگ کو روکنے کی ضرورت ہے، روس کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اور ہمیں اپنے امریکی اور یورپی شراکت داروں کی مدد چاہیے۔ہم نے امریکا کے خیال خاص طور پر صدر ٹرمپ کی اس تجویز کی حمایت کی ہے کہ اس جنگ کو روکا جائے اور اس کا ایک سفارتی حل نکالا جائے۔
زیلنسکی نے کہا کہ وہ خود ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے بھی پیر کے مذاکرات کے فوراً بعد سہ فریقی سربراہی اجلاس کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن پیوٹن اس معاملے پر ہچکچاہٹ دکھا رہے ہیں ۔






















