اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی ) میں شریک جماعتوں نے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور صوبوں کے حقوق پر تقاریر کے دوران اتفاق کیا تاہم 26 نکاتی مشترکہ اعلامیہ متفقہ نہ بن سکا اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔
اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان نے جب اعلامیہ پڑھنا شروع کیا تو مسلم لیگ (ن) کے طارق فضل چوہدری، عرفان صدیقی اور پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے جبکہ عرفان صدیقی نے کہا کہ "یہ ہمارے نہیں بلکہ آپ کے مطالبات ہیں۔"
ایمل ولی خان نے اعلامیہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتیں اس امر پر متفق ہیں کہ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور صوبوں کے جائز حقوق کے بغیر پاکستان میں پائیدار امن و ترقی ممکن نہیں۔
کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملکی مسائل کے حل کے لیے "نیشنل ڈائیلاگ" کی تجویز پیش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں، اس کے استحکام کے لیے قومی سطح کا مکالمہ اور نیشنل اکنامک پلان ناگزیر ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے مولانا کی تجویز کی تائید کی اور کہا کہ یہ فوج ہی ہے جس نے پاکستان سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی، کے پی اور سندھ ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، پاکستان صرف پنجاب نہیں ہو سکتا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1973 کا آئین ایک متفقہ دستاویز ہے، اس میں ترامیم کی جا سکتی ہیں لیکن اگر اسے چھیڑا گیا تو نیا آئین بنانا مشکل ہوجائے گا۔
قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ اپوزیشن کا اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ دراصل پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے۔






















