گیس کمپنیوں سے 2017-18 میں 30 ارب روپے کا گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج وصول نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ نوید قمر نے وزارت پیٹرولیم اور وزارت توانائی کو مل کر معاملہ حل کرنے کی ہدایت کردی اور یہ سوال بھی اٹھادیا کہ ایسے صارفین کو گیس کیوں دیتے ہیں جو بل بروقت ادا نہیں کرتے ؟۔
نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج کی عدم وصولی کا بتایا ، سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا پہلے صوبوں کو رائلٹی دی جاتی ہے پھر بعد سرچارج ادا کیا جاتا ہے،یہی روایتی طریقہ کار ہے، اس کی منظوری کسی نے نہیں بھی دی، گردشی قرض کے باعث کمپنیوں کو سیس ادائیگی میں مسائل ہیں،کمیٹی کنوینر نوید قمر نے پوچھا کیا پی پی ایل کو جنکوز کی طرف سے کوئی ادائیگی نہیں ہورہی؟ بتایا جائے گزشتہ چھ سال کے دوران پی پی ایل نے کتنی رقم ادا کی گئی؟ پی پی ایل حکام نے بتایا 15 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے ۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا پاور ڈویژن سے گیس ضروریات کا تخمینہ مانگا ہے، جبکہ وزیر پیٹرولیم نے دو روز قبل ہی وزیر توانائی کو خط لکھ کر گیس بل ادائیگی اور سیس کی رقم ادا کرنے کا کہا ہے۔






















