بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ ایران ، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کو 20 روز مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران امریکہ کو بھی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں 10 جدید ڈرونز ’ ایم کیو 9 ریپر‘ سمیت 16 امریکی ایئر کرافٹ تباہ یا شدید متاثر ہوئے ۔
سینٹ کام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق سب سے بڑا نقصان امریکہ کوتین F-15 ایگل لڑاکا طیاروں کی تباہی کی صورت میں اٹھانا پڑا جو کویت میں گر کرتباہ ہوئے ، اس حوالے سے کہا گیاکہ یہ دوستانہ فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں، اس کے علاوہ امریکہ کا ایندھن بھرنے والا طیارہ KC-135 Stratotanker ایندھن بھرتے ہوئے گر کر تباہ ہواجس میں سوار 6 اہلکار ہلاک ہوئے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں فضائی اڈے پر موجود امریکہ کے پانچ KC-135 کو میزائل حملے میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں جنہیں بعدازاں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بے بنیاد قرار دیا گیا اور کہا کہ 5 میں سے 4 طیارے فعال حالت میں ہیں ۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے کم از کم 9 ریپر ڈرونز کو فضا میں نشانہ بنایا جبکہ امریکہ کا ایک ڈرون اردن میں ایئر فیلڈ پر میزائل حملے کے دوران تباہ ہوا۔
چند لمحے قبل پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکہ کے ایک اور انتہائی مہنگے اور جدید طیارے F-35 کوفائرنگ سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیاہے جبکہ اس بارے میں سینٹ کام کے ترجمان کا کہناتھا کہ طیارے کو بحفاظت لینڈ کروا لیا گیاہے اور پائلٹ کی حالت بھی مستحکم ہے تاہم سینٹ کام کی جانب سے جہاز کو پہنچنے والے نقصان پر تبصرہ نہیں کیا گیا ۔





















