وفاقی حکومت نے شوگر ملز کو نومبر کے پہلے ہفتے میں کرشنگ شروع کرنے کی ڈیڈلائن دیدی۔ چینی کے خفیہ ذخائر کیخلاف کریک ڈاون کے احکامات بھی جاری کردیئے، خفیہ ذخائر میں ملوث شوگر ڈیلرز کیخلاف ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم کردیئے گئے، کرشنگ شروع نہ ہونے کی صورت میں 3 کے بجائے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کا پلان بنالیا۔
وفاقی حکومت نے شوگر ملز کو نومبر کے پہلے ہفتے میں کرشنگ شروع کرنے کی ڈیڈ لائن دیدی۔ حکام کا کہنا ہے کہ چینی کے خفیہ ذخائر کے خلاف کریک ڈاون کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔
حکومت نے کرشنگ شروع نہ کرنے کی صورت میں 3 کے بجائے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کا پلان بنالیا۔ حکام نے بتایا کہ کرشنگ بروقت شروع نہ ہونے سے 2 لاکھ 60 ہزار ٹن چینی کی قلت کا خدشہ ہے، حکومت نے وزارت فوڈ کو 5 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی اجازت دے رکھی ہے، نومبر کے پہلے ہفتے کرشنگ شروع ہوگئی تو 3 لاکھ ٹن چینی درآمد ہوگی۔
وزارت فوڈ حکام کے مطابق خفیہ اسٹاک کی تلاش کیلئے صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کر دی گئی، خفیہ ذخائر میں ملوث شوگر ڈیلرز کیخلاف ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے چینی کے 19 لاکھ ٹن ذخائر کو کنٹرول میں لے لیا، خدشہ ہے چند شوگر ڈیلرز نے تاحال چینی کے خفیہ ذخائر رکھے ہوئے ہیں۔
وفاقی حکام نے صوبائی حکومتوں کو کسی کا بھی لحاظ کیے بغیر کارروائیوں کی ہدایت کردی۔



















