پنجاب حکومت نے لاہور کا پانی مکمل طور پر ویسٹ فری بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا، شہر کے 6 آؤٹ فال مقامات پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق پہلے مرحلے میں بابو صابو اور کٹار بند ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس پر کام کا آغاز ہوگا، بابو صابو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر تقریباً 60 ارب روپے تک لاگت آئے گی جبکہ کٹار بند ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر 23 ارب روپے خرچ ہوں گے۔
محکمہ ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ دونوں منصوبے غیر ملکی ڈونرز اداروں کی فنڈنگ سے مکمل کئے جائیں گے۔
سیکریٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل کا کہنا ہے کہ تمام ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بننے سے لاہور کا پانی مکمل طور پر قابل استعمال ہوجائیگا، سیوریج کا پانی راوی یا نہر میں ڈالنے کی بجائے اسے زرعی استعمال میں لایا جائے گا۔





















