روس اور یوکرین نے جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کا تبادلہ کیا ہے۔
کریملن کے مطابق یوکرین کو اس کے 1000 فوجیوں کی لاشیں واپس کی گئی ہیں جبکہ یوکرین نے 19 روسی فوجیوں کی لاشیں روس کے حوالے کی ہیں۔
یہ تبادلہ ترکیہ کے شہر استنبول میں گزشتہ ماہ ہونے والے دوسرے مرحلے کے امن مذاکرات میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہوا ہے۔
جمعرات کو ٹیلیگرام پر روسی مذاکراتی وفد کے سربراہ ولادیمیر میدنسکی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ استنبول میں ہونے والے معاہدوں کے تحت آج یوکرین کو 1000 فوجیوں کی لاشیں واپس کی گئیں۔
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس مزید 3,000 یوکرینی فوجیوں کی لاشیں واپس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور حالیہ تبادلہ اسی عمل کی شروعات ہے۔
استنبول میں 2 جون کو ہونے والی براہ راست ملاقات میں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ وہ شدید زخمی فوجیوں اور 25 سال سے کم عمر کے تمام قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔
روسی وفد نے مذاکرات میں یوکرین سے مزید علاقہ چھوڑنے اور مغربی فوجی امداد سے مکمل لاتعلقی جیسے سخت مطالبات کیے جنہیں کیف نے ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاشوں کے تبادلے سے قبل روس نے مشرقی یوکرین کے شہر دوبروپیلیا پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے جبکہ حملے میں 500 کلوگرام وزنی بم استعمال کیا گیا۔
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق گزشتہ رات روس نے 400 شہید اور ڈیکائے ڈرونز کے ساتھ ایک بیلسٹک میزائل بھی داغا اور حملوں کا ہدف خارکیف، کریوی ریہ، وِنیتسیا اور اوڈیسا کے علاقے تھے۔
روسی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس کی افواج نے مشرقی علاقے دونیتسک میں پوپیف یار، شمال مشرقی خارکیف میں دیگتیارنے اور جنوبی زاپوریزیا میں کامینسکے کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔






















