قومی ٹیم کے فاسٹ باولر حسن علی نے سماء نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ون ڈے ٹیم میں واپسی نہ ہونے کی وجہ مجھے معلوم نہیں ہے ، میں ماضی میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ ٹیم مینجمنٹ کو جو بہتر لگا انہوں نے وہ کیا، ماضی گزر گیاہے اور ماضی پر اب بات نہیں کرنا چاہتا ۔
حسن علی کا کہناتھا کہ انجری ہوئی تھی لیکن اس کو ٹھیک کیا اور اس سے کافی بہتری آئی ہے ، بنگلہ دیش کے خلاف اسکواڈ میں کیوں نہیں ہوں اسکی وجہ لوگوں کو نہیں پتا، تنقید کرنے والوں پر کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ میرا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہر ایک کا اپنا موقف ہے، پہلے سے طے شدہ تھا کہ میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹیم میں نہیں ہونگا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے پہلے سے علم تھا ، پی ایس ایل کے اندر فیصلہ ہوگیا تھا کہ میں اس سیریز میں نہیں ہونگا ، ہیڈ کوچ اور کپتان نے بات کی تھی اور بتایا تھا کہ آپ اس اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں ، کپتان اور ہیڈ کوچ چاہتے ہیں کہ 25 لڑکوں کا پول بنایا اور ان کو انہوں نے ٹیسٹ کرنا تھا ، میرے ایک سیریز نہ کھیلنے سے کچھ نہیں ہوگا ، بینچ اسٹرونگ ہونا چاہئیے۔
حسن علی کا کہناتھا کہ کاونٹی کے لئے پی سی بی سے این او سی لے کر آیا ہوں، پاکستان میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے ، ٹیسٹ کرکٹ کو بہت پسند کرتا ہوں، ٹیسٹ میں اچھے طریقے سے آپکی پرفارمنس کو سراہا جاتا ہے ، میں نے بولا تھا اگر ٹیسٹ کرکٹ کے لئے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے چھوڑنا پڑا تو چھوڑ دونگا۔
ان کا کہناتھا کہ سرفراز احمد بہترین کپتان کی فہرست میں نمبر ون پر رہیں گے، بابر کی کپتانی میں فائنل سیمی فائنل کھیلے ہیں وہ بھی اچھے ہیں، رضوان بھائی کی کپتانی میں نہیں کھیلا وہ بھی اچھے ہیں، سلمان علی آغا کی کپتانی میں کھیلا ہوں اور وہ جارحانہ کپتان ہیں، ماڈرن ڈے کرکٹ کو سلمان علی آغا پروموٹ کرتے ہیں، ایک سیریز پر جج نہیں کرسکتے ۔
کھلاڑی کا کہناتھا کہ میری اہلیہ کو میرے لمبے بال نہیں پسندہیں، وہ کبھی کہتی ہے کٹوا دو کبھی کہتی ہے نہ کٹواو، مجھے لمبے بال پسند ہیں میرا فوکس ری ہیب پر چلا گیا تھا، میں ٹیم کا ماحول ٹھیک رکھنے کے لئے شغل لگاتا ہوں، کرکٹر نہ ہوتا تو وکیل ہوتا کیونکہ میری والدہ چاہتی تھی کہ وکیل بنوں۔
پاک بھارت جنگ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے حسن علی نے کہا کہ اگر کوئی ہمارے گھر کی طرف دیکھے گا تو چپ نہیں بیٹھیں گے ،ہماری پاک فوج اور حکومت نے بہترین جواب دیا ہے ، پوری دنیا کو پیغام دیا کہ کسی کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ نہیں کر سکتے ، جنگ میں نہیں پڑنا چاہیے آج کل ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ دنیا ایک ہی لمحے میں تباہ ہو سکتی ہے ۔






















