تاجر برادری کی جانب سے 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کے اعلان کے بعد وزیراعظم ہاؤس متحرک ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو متوقع ہڑتال کے معاملے کی مکمل آگاہی ہے اور وزیراعظم ہاؤس سے اہم تاجر رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کیے گئے ہیں تاکہ ہڑتال کو روکنے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو دیے گئے اضافی اختیارات، خاص طور پر سیکشن 37(A) اور 37(B) کے تحت بغیر نوٹس چھاپوں، اکاؤنٹس منجمد کرنے اور ریکارڈ ضبط کرنے کے اختیارات کے خلاف ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس نے 19 جولائی کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
تاجر رہنماؤں نے ان اختیارات کو کاروبار کے لیے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام نے تصدیق کی کہ وزیراعظم ہاؤس سے انہیں رابطہ کیا گیا ہے اور آئندہ ہفتے کسی بھی دن وزیراعظم سے ملاقات کا امکان ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر جاوید بلوانی نے بھی کہا کہ انہیں وزیراعظم ہاؤس سے فون موصول ہوا ہے اور انہوں نے تجویز دی کہ ایف بی آر کے نئے اختیارات سے متعلق سیکشنز کو فوری طور پر موخر کیا جائے۔
چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا نے بتایا کہ وزیراعظم ہاؤس نے انہیں وزیر خزانہ سے ملاقات کرانے کی پیشکش کی لیکن تاجروں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ سے مشترکہ ملاقات زیادہ نتیجہ خیز ہوگی۔






















