وفاقی وزیر امور کشمیر گلگت بلتستان و سیفران امیرمقام نے فاٹا انضمام واپس لینے اور 18 ویں آئینی ترمیم ختم کرنے کی تردید کردی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر امور امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم نے ضم اضلاع اور جرگہ سسٹم کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی میں گورنر اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا بھی شامل ہیں، کمیٹی نے مختلف اسٹیک ہولڈرز اور پارلیمنٹرینز سے مشاورت شروع کردی ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ کمیٹی نے آج پارلیمنٹرینز کو مشاورت کیلئے بلایا تھا، آج ہی پتہ چلا کہ پی ٹی آئی نے مشاورت کا بائیکاٹ کردیا ہے، کسی نے کہا کہ حکومت فاٹا کا انضمام واپس لینا چاہتی ہے، فاٹا کا انضمام واپس لینے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت ایف سی آر کا قانون بھی واپس نہیں لارہی، فاٹا انضمام اور ایف سی آر خاتمے کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کا ہے، یہ کہنا درست نہیں کہ 18 ویں آئینی ترمیم ختم کی جارہی ہے، فاٹا میں نئے قوانین پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے، اسی نظام کے اندر رہ کر فاٹا کے عوام کی بہتری چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ یہ صوبائی معاملہ اس میں مرکز کا کیا کام؟ وفاق سے ہی صوبائی مسائل کے حل نکالے جائیں گے، آج کے اجلاس میں جے یو آئی کے اراکین نے شرکت کی، جمعیت علمائے اسلام کا فاٹا کے حوالے سے ایک موقف ہے، ہم چاہتے ہیں کہ قومی سوچ کے تحت آگے بڑھایا جائے۔
امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم کی بنائی کمیٹی پر سیاست چمکانا اچھی بات نہیں، تحریک انصاف کے رویے پر بڑا افسوس ہوا، آپ آئیں اور اس معاملے پر کمیٹی میں اپنا مؤقف پیش کریں، تحریک انصاف صرف خبر بنانا چاہتی ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے ضم اضلاع کے حوالے سے وفاقی حکومت کی قائم کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کردیا اوراعلان کیا کہ وہاں کسی بھی قسم کی تبدیلی خیبر پختونخوا سے مشاورت کے بغیر ناقابلِ قبول ہوگی۔
بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد میں کمیٹی اجلاس میں وزیراعلیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی اور کمیٹی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے تحفظات سے آگاہ کیا۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ بیرسٹڑ سیف نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کا سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر خیبر پختونخوا ہے اور اس کی مشاورت کے بغیر کمیٹی کی تشکیل سوالیہ نشان ہے۔






















