پاکستان سمیت دنیا بھر میں خاتم النبیین رسول اکرم ﷺ کے نواسے حضرت امام حسینؓ سمیت دیگر شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یومِ عاشور (10 محرم الحرام) مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شبیہ علم، شبیہ ذوالجناح اور تعزیہ کے جلوس برآمد ہوں گے۔ مجالس عزا ہوں گی۔ جس میں علما و ذاکرین شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کا ذکر کریں گے۔
زاکرین اور علمائے کرام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیمات اور سانحہ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے جبکہ ماتمی جلوسوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے جامع حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
لاہور میں 10 محرم کا مرکزی جلوس موچی دروازے کی نثار حویلی سے برآمد ہوکر اپنے روایتی اور قدیمی راستوں کی جانب گامزن ہے۔ مرکزی جلوس نماز مغرب کے بعد کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عاشورہ کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور دیگر حساس شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، انتظامیہ کے مطابق جلوس کے راستوں میں آنے والے تمام تجارتی مراکز اور دکانیں بند کرا دی گئی ہیں، جبکہ ٹریفک کا نظام متبادل راستوں کی مدد سے رواں دواں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق سکیورٹی کےلیے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، تین حصاروں پر مشتمل چیکنگ سمیت سی سی ٹی وی کیمروں سے جلوس کی مانیٹرنگ جاری ہے۔
کراچی سمیت سندھ بھر میں بھی سخت انتظامات کیے گئے۔ کئی مقامات پر موبائل فون سروس جزوی معطل رہے گی ۔عزاداروں کے لیے جگہ جگہ پانی اور دودھ کی سبیلیں بھی لگائی جائیں گی۔






















