کربلا کی تپتی ریت۔ ظلم کی تلواریں بے گناہوں کا لہو پی رہی تھیں، خیمے جل چکے تھے، لاشے خاک پر بکھرے تھے، بچوں کی سسکیاں اور خواتین کی آہیں تھیں، اُس وقت حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے لٹے قافلے کی قیادت سنبھالی اور ڈر و خوف کا کوئی شائبہ تک قریب نہ بھٹکنے دیا۔ زبانِ اطہر سے نکلنے والے الفاظ کربلا کے ریگزار سے کوفہ و شام کے در و دیوار تک زنجیرِ عدل بن کر گونج اُٹھے۔ جابر حکمران کے دربار میں جب لرزتی آوازیں اور جھکی نظریں درباریوں کی غلامی کا اعلان کر رہی تھیں، عقیلۂ بنی ہاشم کا لہجہ ظلم کو چیرتا ہوا کہہ رہا تھا:
"ما رایتُ الّا جمیلا"
’’میں نے کربلا میں سوائے خوبصورتی کے کچھ نہ دیکھا۔‘‘
یہ محض کلمۂ حق نہ تھا بلکہ وہ بلندی استقامت تھی کہ جہاں کردار کی روشنی عقل و شعور کی تاریکی کو مات دیتی ہے۔ ہر لفظ قرآن کی تفسیر اور حریتِ فکر کی تائید تھا۔ ان خطبات نے یزیدی تخت کو لرزا دیا، ظلم کی بنیادوں میں زلزلہ بپا کر دیا اور اہلِ دربار کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا کہ باطل کے تاج محل مٹی کے گھروندے ہیں۔ سیّدہ زینب لرزی نہیں، بکھری نہیں، جھکی نہیں۔ وہ محض شجاعت کی تصویر نہیں بلکہ علم و حکمت کا سمندر بھی ہیں جس سے ہزاروں خواتین نے اپنے شعور کی پیاس بجھائی۔ مدینہ کی گلیوں میں جب درسِ قرآن و حدیث کی محفلیں سجی تھیں تو اس بزم کی محفل آرائی بھی آپ ہی تھیں۔ کوفہ کے میدان میں جب امیرالمومنین کی خلافت نے علم کی قندیلیں روشن کیں تو ان کی روشنی میں زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا مدرسہ علم و عرفان کا مرکز بن گیا۔
عظمتِ کردار کا یہ مینار ہمیں بتاتا ہے کہ اگرچہ میدانِ کربلا میں زخموں کی زبان تھی، مگر کوفہ اور شام کے درباروں میں زینب کی زبان نے ان زخموں کو صداقت کا عنوان بنا دیا۔ ان کی فصاحت و بلاغت نے اسلامی معاشرے میں عورت کی عزت و غیرت، وقار و سربلندی اور قیادت کا تصور قائم کیا۔ وہ مردہ ضمیروں کے شہر میں جرات و حق گوئی کا علم لہرا کر گئیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ میدان کربلا صرف نیزوں و تلواروں کا معرکہ نہ تھا بلکہ کردار کی عظمت اور ایمان کی استقامت کا وہ میدان تھا جہاں ایک بہن نے اپنی برباد بستی کو بھی مایوسی میں بدلنے نہ دیا۔ کربلا کی زمین جب اہلِ حق کے لہو سے لالہ زار بنی اور یتیم بچے تپتی ریت پر بلک رہے تھے، تب سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے صبر و جرات اور قیادت کی ایسی مثال پیش کی جس کی نظیر تاریخِ بشریت پیش کرنے سے قاصر ہے۔
کوفہ کی گلیاں ہوں یا شام کا ظالم دربار، بی بی زینب کا لہجہ نرم نہیں پڑا۔ الفاظ میں وہ آگ تھی جو ظلم کے ایوانوں کو جلا ڈالے۔ اسیر ہو کر بھی آوازِ حق بلند کی۔ نہ صرف مظلومیت کو صداقت کا نشان بنایا بلکہ خواتین کے لیے علم و شعور، قیادت و تربیت اور کردار کی عظمت کا در بھی کھولا۔
آج بھی جب ظلم اپنی نئی شکلوں میں جنم لیتا ہے تو سیّدہ زینب کی استقامت ہر کربلا میں آواز دیتی ہے کہ "باطل کی سلطنتیں الفاظِ حق سے لرزتی ہیں، بس شرط یہ ہے کہ زینبی حوصلہ زندہ رہے!"
آپ کی ہستی تاریخ کا وہ درخشاں ستارہ ہے جس میں نہ فقط شعور کی روشنی ہے بلکہ کردار کی حرارت بھی ہے۔وہ کربلا کی شیر دل خاتون نہیں بلکہ ہر دور کے مظلوم کی امید بھی ہیں، ہر ظالم کے لئے للکار ہیں اور ہر حق پرست کے لئے استقامت کا لازوال عنوان ہیں۔
آج کے تیز تر دور میں یہ سوال سب سے کلیدی ہے کہ کیا ہم بی بی زینب کی اُس استقامت سے سبق لے رہے ہیں؟ ظلم کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
بیٹیوں کو حضرت زینب کی طرح علم و ہمت کا تاج پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اب ظالموں کی شکلیں بدل گئی ہیں لیکن زینبی پیغام یہی کہتا ہے کہ حق کو حق،باطل کو باطل کہو، ظلم کے ایوانوں کے سامنے ڈٹ جانا ہی حریت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا عورت کی بیداری، تعلیم، کردار سازی، فصاحت و بلاغت اور قائدانہ صلاحیتوں کی زندہ علامت ہیں۔
آج کی عورت اگر سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا کی سیرت کو اپنا نمونہ بنائے تو وہ نہ صرف ماں، بہن یا بیٹی بنتی ہے بلکہ کاروانِ حریت کی مشعل بردار بھی بن سکتی ہے۔
یاد رکھیں!
زینبؑ صرف تاریخ کی ایک عظیم خاتون نہیں، بلکہ ہر مظلوم کی امید، ہر جابر کے لیے للکار، اور ہر حق پرست کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
آئیے، عہد کریں!
ہم سیرت سیّدہ زینب کو بیٹیوں کے کردار، گفتار، لباس، تعلیم، طرزِ فکر اور انفرادی و اجتماعی رویوں میں زینبی وقار لائیں۔ اُن میں کلمۂ حق کہنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
آج کی عورت اسوہ زینب اپنا کر نہ صرف کاروانِ حریت کی مشعل بردار بن سکتی ہے بلکہ گھروں میں اُن جیسا صبر، علم، غیرت، حیا اور جرأت والا کردار بھی پیدا کرسکتی ہیں۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





















