ایران پر اسرائیل حملوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا پہلا براہ راست سفارتی رابطہ یورپی حکام سے ہوا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی آج جنیوا کے ایک ہوٹل میں فرانس، جرمنی، برطانیہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے لیے پہنچے ہیں ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلا براہ راست سفارتی رابطہ ہے، اس ملاقات میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل بھی شامل ہیں۔
ملاقات سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ جب تک اسرائیل ایران کے خلاف حملے جاری رکھے گا،ایران کا امریکہ سے بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم وہ دیگر یورپی فریقین کے ساتھ "مذاکرات" کے لیے تیار ہیں۔
برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی ملاقات سے قبل واشنگٹن میں امریکی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کر نے کے بعد کہا کہ اب ایک سفارتی حل کے لیے اگلے دو ہفتوں کے اندر ایک ونڈو موجود ہے۔ اگر فریقین نے موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔





















