مسلم ممالک نے نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کو یکسر مسترد کردیا، مشترکہ اعلامیے میں صہیونی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے، مکمل جنگ بندی اور امن کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ کردیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اعلامیہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظرجاری کیا گیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور مصر سمیت دیگر ممالک نے اعلامیے کی توثیق کی۔
اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی اثاثوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ فوجی حکام پر جارحانہ حملوں کے بعد ایران کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا اور مقبوضہ بیت المقدس، تل ابیب، حیف سمیت دیگر شہروں پر شدید بمباری اور ڈرون حملے کیے گئے۔
سلم ممالک نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کو یکسر مسترد کردیا۔ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کردیا، جس کی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، الجزائر، بحرین اور مصر نے توثیق کردی۔
اعلامیے کی توثیق کرنے والے ممالک میں عمان، برونائی دارالسلام، چاڈ، اتحاد القمری، جبوتی، لیبیا، موریطانیہ، صومالیہ اور سوڈان بھی شامل ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، کشیدگی کم کرنے، مکمل جنگ بندی، امن کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اعلامیہ تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر جاری کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 13 جون سے ایران پر اسرائیل کے حملوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ اعلامیے میں عالمی قوانین اور یو این چارٹر کے مقاصد و اصولوں کی خلاف ورزی کی مذمت کی گئی ہے۔
اعلامیے میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، حسن ہمسائیگی اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی ایران کیخلاف جارحیت کو فوری طور پر روکنے کی اشد ضرورت ہے، اسرائیل کی ایران کیخلاف جارحیت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہورہی ہے۔
مسلم ممالک نے اس خطرناک بگاڑ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے سنگین قرار دیا، اور کہا کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری اور دیگر مہلک ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کی فوری ضرورت ہے، ایٹمی عدم پھیلاؤ کا قانون خطے کی تمام ریاستوں پر بلا امتیاز لاگو ہونا چاہئے۔
اعلامیے میں مسلم ممالک نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور 1949ء کے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہیں۔



















