اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکان کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم جو ضروری ہوگا، وہ کریں گے"، جبکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
آسٹریلوی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایرانی قیادت کو تنازع کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانا جنگ کو بڑھاوا نہیں دے گا بلکہ اسے ختم کرنے میں مددگار ہوگا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ آیت اللہ کی حکومت ہی مسئلے کی جڑ ہے اور ایران کا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوششیں خطے کے لیے خطرہ ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کے مبینہ اسرائیلی منصوبے کو ویٹو کر دیا تھا۔
امریکی عہدیداروں نے کہا کہ ہم سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے کی بات بھی نہیں کر سکتے جبکہ اس سے قبل اسرائیلی حکام نے بھی کہا تھا کہ خامنہ ای پر حملہ خارج از امکان نہیں ہے۔
ایک اور بیان میں نیتن یاہو نے ایران کے سینکڑوں راکٹس اور لانچنگ پیڈز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ کا چہرہ بدل رہے ہیں اور فتح کی طرف گامزن ہیں، یہ ایران بھی جانتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے اعلیٰ جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ گویا ہٹلر کی جوہری ٹیم جیسا معاملہ ہے۔
نتین یاہو کا کہنا تھا کہ آج حملہ تل ابیب پر ہے، کل نیویارک پر ہو سکتا ہے، میں امریکہ فرسٹ کی پالیسی کو سمجھتا ہوں لیکن امریکہ ڈیڈ کا تصور میری سمجھ سے باہر ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انکا امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ روزانہ رابطہ رہتا ہے۔





















