وزیراعظم شہبازشریف نے دو روزہ دورہ سعودی عرب کے دوران آج ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ نہایت اہم ملاقات کی جس دوران باہمی دلچسپی امور اور دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی جبکہ اس موقع پر دونوں رہنماوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد بھی دی ۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ملاقات کے بعد شاہی دیوان میں ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے دئیے گئے خصوصی ظہرانے میں بطور مہمانِ خاص شرکت کی ۔
ولی عہد نے وزیرِ اعظم کا خصوصی استقبال کیا اور خود گاڑی چلا کر وزیرِ اعظم کو ظہرانے میں شرکت کیلئے لے کر گئے۔ ظہرانے میں سعودی ولی عہد نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا بھرپور استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں کے مابین غیر رسمی گفتگو ہوئی۔
ظہرانے میں مشرق وسطی کے اہم رہنماؤں سمیت سعودی کابینہ کے ارکان اور اعلی سعودی سول و عسکری قیادت شریک تھے۔
وزیراعظم شہبازشریف اور محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا، پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلیے کردار ادا کرنے پر وزیراعظم نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے جبکہ ان کے علاوہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،وزیرداخلہ محسن اور وزیراطلاعات عطاتارڑ بھی شریک ہوئے ۔
وزیرِ اعظم کا سعودی ولی عہد کی جانب سے شاندار استقبال اور ظہرانے میں بطور مہمان خاص شرکت، پاکستان و سعودی عرب کے دیرنہ برادرانہ تعلقات اور وزیرِ اعظم کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا مظہر ہے۔
شہبازشریف اور محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کی تفصیل
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران پاکستان اورسعودی عرب کے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جبکہ اس موقع پر پاکستان اورسعودی عرب کی قیادت نے غزہ کی سنگین صورتحال پر بھی بات چیت کی ۔
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے عالمی برادری سے ذمہ داریاں پوری کرنے پر زور دیا اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت کا اعادہ کیا ۔
شہبازشریف نے کہا کہ سعودی قیادت نے حج کے موقع پر بہترین انتظامات اور مہمان نوازی کی، خادم الحرمین شریفین اور ولی عہد کی گرانقدر خدمات کے معترف ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی ولی عہد کو پاک،بھارت کشیدگی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن واستحکام کے فروغ کیلئے پُرعزم ہے، پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارتی جارحیت کا جواب دیا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون پر اظہار اطمینان کیا ، پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ۔






















