وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی ) ایک ہزار ارب روپے کا ہوگا اور ایک ہزار ارب روپے میں سے 250 ارب کا فنڈ بلوچستان کیلئے ہوگا۔
ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں بلوچستان گرینڈ جرگے میں شرکت کی جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی شریک ہوئے۔
گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 6، 7 اور 10 مئی کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا جس کے جواب میں افواج پاکستان نے دشمن کووہ شکست دی جو وہ عمر بھر یاد رکھے گا، پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی، پاک ، بھارت جنگ مختصر تھی لیکن خطرناک تھی۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دلیرانہ اور منظم قیادت کے تحت جنگ جیتی اور جنگ جیت کر افواج پاکستان نے مان بڑھایا ، سر فخر سے بلند کیا اور افواج پاکستان نے جنگ جیت کر 1971 کا بدلہ لے لیا، ہماری جیت سے مخالفین سہم گئے ، دوستوں کا حوصلہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 5 کے مقابلے میں 6 دھماکے کر کے ہندوستان کے اوسان خطا کئے گئے تھے، اللہ تعالیٰ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کوعزت دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور پیارا صوبہ ہے، دہشتگرد خون کے پیاسے ہیں اور انہیں ملکی ترقی وخوشحالی نہیں بھاتی، یہ اغیارکے ایجنٹ ہیں ، آپ کو ان کا راستہ روکنا چاہیے اور ان کے ہتھکنڈے ناکام بنانے چاہئیں، بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2010 میں این ایف سی ایوارڈ پر گوادر میں دستخط ہوئے تھے، پنجاب نے حصہ ڈالا جس کی وجہ سے این ایف سی ایوارڈ منظور ہوا، پنجاب نے اپنے حصے سے 11 ارب روپے ڈالے تھے، قومی اتحاد کیلئے 155 کیا 1600 ارب روپے بھی نچھاور کر دیں تو کوئی مسئلہ نہیں، ہم 4 بھائی ہیں ایک روٹی چاروں نے مل کر کھانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کیلئے 70 ارب کا سولر منصوبہ چل رہا ہے ، ہم نے اپنا حصہ ڈالا ہے، این 25 کو خونی روڈ کہتے ہیں جہاں بے پناہ جانوں کا نقصان ہوتا ہے، پچھلی حکومت میں این 25 کیلئے فنڈنگ دی تھی، مجھے احساس تھا اس طرح فنڈ دیئے گئے تو قیامت تک یہ روڈ نہیں بنے گا، آئندہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی ایک ہزار ارب روپے کا ہوگا، ایک ہزار ارب روپے میں سے 250 ارب کا فنڈ بلوچستان کیلئے ہوگا، میرے نزدیک پی ایس ڈی پی کے 250 ارب بھی بلوچستان کیلئے کافی نہیں، گوادر ، پسنی اور دیگر علاقوں میں پیسے ایمانداری سے استعمال ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت دن رات کام کر رہی ہے، 12 سال پہلے بلوچستان میں دل کے اسپتال کیلئے 2 ارب روپے رکھے تھے۔
وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ بھٹک گئے انہیں واپس لانے کیلئے ہم سب کو کاوشیں کرنی چاہئیں، بلوچستان کے لوگوں کو دہشتگردوں کا راستہ روکنا چاہیے، خون کے پیاسے دہشتگرد اغیار کے ایجنٹ ہیں، ترقی ، خوشحالی اور بدامنی اکٹھے نہیں چل سکتے، ہمیں آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنا ہوگا ، مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا خطاب
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے گرینڈ جرگے سے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو جرگے میں خوش آمدید کہتاہوں، وزیراعظم نے سب کو اس بحران میں اکٹھا کیا ، یہ ان کی سیاسی بصیرت ہے، این 25 شاہراہ کے اعلان سے بلوچستان کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑی ہے، وزیراعظم پاک فوج کے ساتھ مل کر این 25 کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان دہشتگردی سے متاثر ہے، ایک ٹولہ بھارت کے کہنے پر دہشتگردی کر رہا ہے، دہشتگردوں کا بلوچیت سے تعلق نہیں، قومی جرگے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ فیلڈمارشل نے کہا بلوچستان ماتھے کا جھومر ہے، اس میں شک نہیں بلوچستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔






















