ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگیا، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کہتے ہیں اس بار یہ مہم پاکستان اور افغانستان میں ایک ساتھ شروع کی گئی اور ایک ساتھ ہی ختم ہوگی،ملک کے 89 اضلاع کا ٹیسٹ ہواجن میں سے 50 میں پولیو وائرس موجود پایا گیا۔ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنیوالے والدین پر شدید تنقید کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ دنیا میں کینسر کا علاج موجود ہے لیکن ایک دفعہ پولیو ہوگیا تو اُس کا کوئی علاج نہیں، قوم جس طرح بھارت کیخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ایسے ہی دشمن مرض پولیو کے خلاف بھی بنے۔
وفاقی وزیر وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر انسداد پولیو مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پاکستان اور افغانستان میں ایک ہی دن مہم شروع کی ہے، پولیو سیاسی مسئلہ نہیں، اگلی نسل کے محفوظ مستقبل کی بات ہے، انسداد پولیو مہم کے بارے میں منفی خیالات ذہنوں سے نکال دیں، منفی پروپیگنڈا کرنے والے سوچیں کیا ہم اپنی آخرت خراب کریں گے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پوری دنیا سے پولیو ختم ہوچکا ہے، یہی قطرے پلائے گئے تھے، کیا ہم اپنے بچوں کے مستقبل سے کھیل سکتے ہیں؟، کینسر کا علاج تو ہے لیکن پولیو کا دنیا میں کہیں علاج نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کے 89 اضلاع کا ٹیسٹ ہوا، 50 میں پولیو وائرس موجود پایا گیا، کراچی کے 12 مقامات میں سے 11 میں وائرس ماحول میں ہے، ابھی 10 کیسز ہیں، اگر قطرے نہ پلا رہے ہوتے تو ہزاروں کیس ہوتے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو مہم میں 4 کروڑ 58 لاکھ بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلائے جائیں گے، قندھار کے علاوہ باقی افغانستان میں گھر گھر قطرے پلائے جارہے ہیں، قندھار میں محلے کی مسجدوں میں بچوں کو بلاکر قطرے پلائے جاتے ہیں، جس طرح مہم جاری ہے افغانستان بھی جلد پولیو فری ہوسکتا ہے، کہیں ایسا نہ ہوکہ افغانستان میں بھی پولیو ختم ہو اور پاکستان اکیلا رہ جائے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے 5 کیسز خیبرپختونخوا، 4 سندھ اور ایک پنجاب سے سامنے آئے ہیں، گزشتہ سال 63 ہزار بچے پولیو کے بچاؤ کے قطرے پینے سے رہ گئے تھے، جو قطرے نہیں پلاتے اپاہج ہونے والے بچوں کا حساب بھی انہی والدین سے ہوگا، قطرے پلانے سے انکار کرنیوالے والدین قیامت میں اللہ کو جواب دیں گے، بھارت کی طرح پولیو بھی دشمن، اس کے خلاف بھی قوم سیسہ پلائی دیوار بنے۔
وفاقی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ پولیو کے قطرے غیرمحفوظ ہوتے تو پورے یورپ کو نقصان پہنچ چکا ہوتا، ہم چاہتے ہیں پاکستان اور افغانستان دونوں اکٹھے پولیو فری ملک بنیں، پولیو ویکسین سے انکار پر والدین کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرائیں گے، والدین خود احساس کریں اور بچوں کو ذمہ داری سے قطرے پلائیں، انکاری والدین کو گرفتار نہیں بلکہ ان سے بات کریں گے۔






















