نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آل پاکستان چیمبرز پریزیڈنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق فضاؤں کی سب سے بڑی جنگ تھی جو 1 گھنٹہ سے زائد جاری رہی ، پہلے جو ایسی جنگ کا ریکارڈ تھا وہ تیس منٹ تھی ، چند سال سے کہا جا رہا تھا پاکستان کوئی قابل ذکر ملک نہیں ہے ، یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ بھارت مضبوط ملک ہے سب اس کی طرف دیکھ رہے ہیں، کوئی نیا نارم نہیں بنا ،اب پوری دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی رہا ہے، پہلگام واقعہ پر بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان پر الزام لگایا ، بھارت نے پاکستان کے خلاف یکطرفہ اقدامات کرنے شروع کر دیئے، پلوامہ کے واقعہ کے بعد بھی بھارت نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا تھا، اب پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کیا، بھارت نے چودھراہٹ قائم کرنے کی کوشش کی، ہم بھارت کے اقدامات کے بعد ان کی فضائی حدود بند کی، جب ہم نے فضائی حدود بند کیں تو پھر پوری دنیا اس طرف متوجہ ہوئی۔
ان کا کہناتھا کہ پاکستان کا موقف تھا کہ ہم پہل نہیں کریں گے ، اس بار ہم نے دشمن کواینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا فیصلہ کیا ، بھارت نے جان بوجھ کر سکھ علاقے میں میزائل گرائے تاکہ وہ سمجھیں پاکستان نے مارے، بھارت پاکستان کے شہروں پر میزائل فائر کیے تو صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، کئی ممالک نے کہا ہم بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں، جب نور خان ائیر بیس پر حملہ کیا تو پھر ہم نے اس کا جواب دیا ۔
نائب وزیراعظم کا کہناتھا کہ مجھے صبح ہی کال آ گئی کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے، اس ایڈونچر میں ایک چیز سامنے آئی کہ پاکستان کی سالمیت کیلئے سب ایک ہیں ، یہ ملک آگے جا سکتا ہے اور جائے گا ،مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ، چند سال سے افغانستان کے ساتھ ہماری سرد مہری چل رہی تھی ، میں نے ایک دن افغانستان کا دورہ کیا اور ان کی پوری قیادتِ سے ملا ، اب چین میں افغانستان کے حکام سے میری دوسری ملاقات تھی، پاکستان، افغانستان، چین اور بنگلہ دیش کو بلاکس بنا کر آگے چلنا ہے۔



















