عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) کے سینیٹر ایمل ولی خان نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) حفیظ الرحمان کے خلاف تحریک استحقاق پیش کر دی۔
اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان نے تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے ایوان کو فنکشنل کمیٹی اجلاس میں پیش آنے والے واقعہ سے آگاہ کیا اور کہا چیئرمین پی ٹی اے نے پوری پارلیمنٹ کی تذلیل کی ہے ، تحریک استحقاق پر کارروائی کی جائے۔
ایمل ولی نے کہا قائمہ کمیٹیاں اہمیت کھو چکیں ، میں آج سے کسی کمیٹی میں نہیں بیٹھوں گا ۔
قائد ایوان اسحاق ڈار نے تحریک استحقاق کی حمایت کی جس کے بعد چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے معاملہ استحاق کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
دوسری جانب اپنے وضاحتی بیان میں چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہوں نے نہ کوئی غیر پارلیمانی زبان استعمال کی اور نہ ہی بے ادبی کا ارادہ تھا۔
حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ سینیٹر سے ایک ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو ہوئی اور اگر کسی کو رنج پہنچا تو وہ پہلے ہی کمیٹی کے سامنے معذرت کر چکے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ سینیٹر ایمل ولی خان کے معزز خاندان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سینیٹ کے تمام ارکان کا دل سے احترام ہے۔
انہوں نے پارلیمانی آداب کی مکمل پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا اور سیاسی سطح پر چلنے والی مہم ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔






















