قومی اسمبلی کی پلاننگ کمیٹی نے اراکین کی اسکیمز کے بارے میں مسائل کے حل کیلئے سب کمیٹی دوبارہ تشکیل دے دی۔ قائمہ کمیٹی نے اتفاق کیا کہ جب تک مسائل حل نہیں ہوتے تب تک سب کمیٹی امور کا مکمل جائزہ لے۔ بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پی ایس ڈی پی کے تحت 1100 ارب مختص تھا، جس میں سے 1036 ارب روپے منظور ہوچکے۔
عبد القادر گیلانی کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی پلاننگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اراکین پارلیمنٹ کی اسکیموں سے متعلق سب کمیٹی کی رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کی گئی۔
سب کمیٹی اراکین کی اسکیموں سے متعلق مسائل سے متعلق 100 فیصد کام مکمل نہ کر سکی، سب کمیٹی کے کنوینر سمیع الحسن گیلانی نے سب کمیٹی امور سے متعلق بریف کیا اور کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے فنڈز کے اجراء اور نامکمل کام کے مسائل زائد ہیں۔
چیئرمین کمیٹی عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس کچھ امور ہیں، پی ڈبلیو ڈی کو جس طرح وفاق نے ختم کیا وہ طریقۂ درست نہیں تھا، پی ڈبلیو ڈی کے خاتمے سے قبل پلان بنانا چاہیے تھا۔
اراکین کی اسکیمز کے بارے میں مسائل کے حل کیلئے سب کمیٹی دوبارہ تشکیل دے دی گئی۔ قائمہ کمیٹی نے اتفاق کیا کہ جب تک مسائل حل نہیں ہوتے تب تک سب کمیٹی امور کا مکمل جائزہ لے۔
وزارت خزانہ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ کے پی سے پی ڈبلیو ڈی کے تمام فنڈز جاری کردیئے گئے، خیبرپختونخوا سے مجموعی طور پر فنڈز سے متعلق 16 ڈیمانڈز تھیں، خیبرپختونخوا سے 1.3 ارب کی ڈیمانڈ میں سے 98 کروڑ جاری کیے گئے، پی ڈبلیو ڈی اور پی ایس ڈی پی میں کہیں فرق نہیں رکھا گیا، جب صوبہ ڈیمانڈ کرتا ہے وفاق پیسے ریلیز کرتا ہے۔
پلاننگ کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ 2024-25 کیلئے پی ایس ڈی پی کے تحت 1100 ارب مختص تھا، جس میں سے 1036 ارب روپے منظور ہوچکے، مجموعی طور پر ترقیاتی بجٹ کی 5 فیصد منظوری باقی ہے۔
کمیٹی رکن طاہر اقبال نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ خیبرپختونخوا کو دیا کچھ نہیں، غلط ہے، پنجاب بہت بڑا صوبہ ہے آبادی اور ذرائع کے حساب سے مقابلہ بنتا نہیں، ہر بار یہ کہنا کہ پنجاب کو سب کچھ دے دیا فلاں کو نہیں دیا اس سے نکلیں۔





















