جنوبی ایشیا کے افق پر منڈلاتے جنگ کے بادل بالآخر چھٹ گئے ہیں، لیکن جو منظر اب سامنے آیا ہے، وہ صرف ایک عارضی سکون کا نہیں، بلکہ طاقت کے تصور، نفسیاتی برتری، اور خطے کی تزویراتی ساخت میں ایک اہم موڑ کا پتہ دیتا ہے۔
گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ، جو ابتدا میں خوداعتمادی اور برتری کے تاثر کے ساتھ شروع ہوا، جلد ہی اپنے اندرونی تضادات کا شکار ہو گیا۔ بھارتی قیادت نے ایک جارحانہ انداز اپنایا — مقصد شاید پاکستان کو دباؤ میں لا کر عالمی سطح پر تنہا کرنا اور داخلی سیاسی مقاصد کو تقویت دینا تھا۔ مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔
پاکستان نے جس صبر، نظم، اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف دشمن کے عزائم کے لیے رکاوٹ بنا، بلکہ عالمی برادری کو یہ باور کروایا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب یکطرفہ نہیں رہا۔ جہاں بھارتی میڈیا نے ابتدائی طور پر فتح کے افسانے تراشے، وہیں صبح ہوتے ہی حقیقت کی روشنی میں ان خوابوں کا ٹوٹنا ناگزیر ہو گیا۔
بھارت کی فضائی طاقت، جسے طویل عرصے سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، اب چیلنج ہو چکی ہے۔ پاکستان نے روایتی جواب سے بڑھ کر ایک نیٹ ورکڈ وارفیئر کا مظاہرہ کیا، جہاں چینی تعاون، ISR صلاحیت، اور مقامی دفاعی ہم آہنگی نے ایک نئے دفاعی ماڈل کی بنیاد رکھی۔ بھارت کے رافیل طیارے، INS وکرانت، اور دیگر ہتھیار جن پر فخر کیا جاتا تھا، ان کے کردار پر اب سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ صرف عسکری محاذ پر شکست نہیں تھی، بلکہ ایک نفسیاتی و تزویراتی پسپائی تھی — ایک ایسی پسپائی جو صرف میزائل یا بمباری سے نہیں، بلکہ نپی تلی خاموشی، دفاعی نظم، اور عالمی سطح پر تاثر کے ذریعے دی گئی۔ اب پاکستان کو محض ایک جغرافیائی اکائی کے بجائے، ایک تزویراتی ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے — جو قراقرم سے واہگہ تک، اور بیجنگ سے خلیج تک، ایک نئے اتحاد کی علامت بن چکا ہے۔
عالمی اثرات بھی واضح ہو چکے ہیں۔ مغربی دنیا کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ جنوبی ایشیا کا معاملہ اب اتنا سادہ نہیں رہا۔یہ وقت ہے کہ بھارت حقیقت کا سامنا کرے۔ پاکستان کو اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ جنوبی ایشیا کے امن، ترقی، اور استحکام کے لیے ایک متوازن، باوقار، اور باہمی احترام پر مبنی رویہ ہی واحد راستہ ہے۔پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ حکمت، برداشت، اور تزویراتی ہم آہنگی ہی اصل طاقت ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





















