پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز ایک اور نئی تاریخ رقم ہو گئی۔ پہلی بار مارکیٹ ایک لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح عبور کرگئی۔
بجلی سستی اور سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے وزیراعظم کے اعلان پر اور ماہانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھنے کی رفتار59 سال کی کم ترین سطح پر آنے سے سرمایہ کارخوش دکھائی دے رہے ہیں۔
دوران ٹریڈنگ مارکیٹ میں 1800 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوگیا، کاروبار کےاختتام پرہنڈریڈ انڈیکس 792پوائنٹس بڑھکر119730پوائنٹس پر بند ہوا۔
اسٹاک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج مارکیٹ بلند ترین سطح کا نیا ریکارڈبناسکتی ہے، رواں ماہ لسٹڈ کمپنیز کے متوقع سہہ ماہی مالی نتائج کے اعلانات بھی مارکیٹ کیلئے اہم ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار اطمینان
وزیراعظم شہبازشریف نے ہنڈریڈ انڈیکس ایک ہی دن میں 1800پوائنٹس بڑھنے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی پالیسیوں پر تاجروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی ہے، بجلی نرخوں میں کمی گھریلو صارفین کے ساتھ کاروباراور صنعتوں کے لئے بھی خوش آئند ہے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ معاشی اشاریوں اور کاروباری ماحول میں بہتری پالیسیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے ترجیحی بنیادوں پر تمام سہولتیں فراہم کررہی ہے۔
امریکی اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے کئی ممالک پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ملک کی اپنی سٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
امریکی اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش کرگئیں۔ سرمایہ کاروں کے کھربوں ڈالرڈوب گئے۔ امریکی منڈیاں 2020 کے بعد بدترین گراوٹ کا شکار ہیں۔
شیئر کی قدر دن کے دوران واپس بحال ہو سکتی ہے، یعنی یہ تبدیلی مستقل نہیں ہوتی تاہم اقتصادی ماہرین نے امریکا سمیت عالمی منڈیوں میں نئی کساد بازاری کا خدشہ ظاہر کردیا۔