بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) عمران خان سے آج اڈیالہ جیل میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
طویل ملاقات کا بنیادی موضوع اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات تھا جس میں دونوں نے بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دی اور ملاقات میں یہ طے پایا کہ جب تک مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوتی اسے راز میں رکھا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حکام اور امریکا سے آئے پاکستانی ڈاکٹرز کے درمیان ہونے والی ملاقات سے بھی آگاہ کیا گیا جس پر عمران خان خاصی خوش اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے تنویر احمد، عاطف خان، ڈاکٹر عثمان، ڈاکٹر منیر اور ڈاکٹر سائرہ بلال اور وفد میں شامل ارکان پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان سے باہر مقیم متنازع بلاگرز اور یوٹیوبرز حیدر مہدی، عادل راجہ، احمد نورانی، معید پیرزادہ اور شہباز گل سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی میں رکاوٹ ڈالنے اور ملک میں سیاسی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
حیدر مہدی اور عادل راجہ نے ملاقات کے بارے میں غلط معلومات لیک کیں جس میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حکام اور بیرونِ ملک سے آئے پاکستانی ڈاکٹرز شامل تھے تاکہ عمران خان کی رہائی کے امکانات کو سبوتاژ کیا جا سکے، اسی طرح احمد نورانی نے اپنی رپورٹس میں فوج کے اعلیٰ افسران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا کر اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق یہ افراد بیرونِ ملک سے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے افواہوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستانی عوام کو گمراہ کر رہے ہیں جس سے نہ صرف عدالتی عمل متاثر ہو رہا ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان بلاگرز نے بانی پی ٹی آئی کے حامیوں کو مشتعل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر جھوٹی اور بے بنیاد معلومات پھیلائیں جن کا مقصد عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نفرت کو ہوا دینا تھا۔
تاہم، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے امریکا سے آنے والے وفد پر اظہار اعتماد نے صورتحال انکی افواہوں اور پروپیگنڈے کے برعکس بنادی ہے۔
دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اداروں نے ہمیشہ ملکی سلامتی اور استحکام کو مقدم رکھا ہے اور ایک تجزیہ کار نے کہا اسٹیبلشمنٹ نے مشکل حالات میں بھی پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ یہ بلاگرز اپنے منفی پروپیگنڈے سے قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ ان بلاگرز کے اقدامات سے نہ صرف عمران خان کی قانونی جدوجہد کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ پاکستان کے امن و امان کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔