دنیا بھر میں آج اعصابی بیماری آٹزم سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے ۔ آٹزم ایسی بیماری ہے جس میں بچوں میں بولنے، سمجھنے، سیکھنے اور سماجی رابطے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے ۔ ماہرین کہتے ہیں پاکستان میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔
آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر یا اے ایس ڈی جس سے آگاہی کا آج عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ آٹزم ساری عمر ساتھ رہنے والا ایسا مرض ہے، جس میں مریض کا لوگوں سے بات کرنا متاثر ہوتا ہے۔ بولنے سیکھنے سمجھنے کی ذہنی استعداد متاثر ہوتی ہے۔ یہ مختلف افراد میں مختلف سطح پر اور مختلف شدت کا ہوتا ہے۔
ماہر آٹزم ڈاکٹر تحریم بنگش کا کہنا ہے کہ بچہ آپ کو اپنے نام بلانے سے ریسپانڈ نہیں کر رہا ، یا وہ روزانہ بول نہیں رہا،تاخیر سے بولنے کی علامات ہیں یا اپ کی کمانڈ کو فالونہیں کررہا ، یا ایک سال کی عمر میں دو لفظ نہیں بول رہا یا ڈیڑھ سال کی عمر میں اسے 25 تک الفاط آنے چائیں، جو وہ نہیں بولا رہا تو آپ کو اسے اسپیچ و لینکویج تھرلیراپیٹسٹ کو دکھانا چائیے تاکہ آپ تشخیح کرسکیں کہ کیا وہ ْٹزم سے متاثر تو نہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق لڑکوں میں آٹزم کی شرح لڑکیوں کی نسبت زیادہ ہے، بچے خیالی دنیا میں مگن رہتے ہیں اور خواہشات کا اظہارنہیں کرپاتے۔
ڈاکٹر فاطمہ سرور کا کہنا ہے کہ ہر 36 میں سے ایک بچے کو آٹزم ہورہا ہے اور یہ زیادہ پھیل رہا ہے پچھلے سال ان کی تعداد دیکھی تو یہ 56 میں سے ایک تھی اس سے پہلے 80 مین سے ایک تھی یہ اپنی عمر کے بچوں میں نہ گھلیں گے نہ ہی ملیں گے ،دوست نہیں بنائیں گے ،اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں، اگر علاج نہ ہوسکے تو وہ نارمل زندگی نہیں گزارسکتے۔
ماہرین آٹزم کو غیر مہلک جینیاتی بیماری قرار دیتے ہیں، جس میں جان کا خطرہ تو نہیں لیکن مریض کبھی مکمل نارمل زندگی نہیں گزار سکتا۔