دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی قیادت میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم خود سرگرم ہوئے۔ پی پی قیادت اور وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا۔ شہبازشریف نے کہا معاملہ افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم سی سی آئی میں اکثریت ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، وزیراعظم مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس پر صوبوں کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔
خیال رہے کہ جنوری 2024 کے بعد سے مشترکہ مفادات کونسل کا کوئی بھی اجلاس نہیں ہوا، صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم بطور چیئرمین فوری نوعیت کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے متنازع 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف احتجاج کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ بھر میں احتجاجی مشعل بردار ریلیاں نکالی جائیں گی، سندھ بھر کی تحصیل سطح کی تنظیمیں عوامی قوت کے ساتھ مشعل بردار ریلیاں نکالیں، پانی کا مسئلہ ایک دن کے احتجاج کرنے سے حل نہیں ہو گا، کینالز کے مسئلے پر مسلسل احتجاج کر کے دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کا مسئلہ سندھ کے مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، 6 کینالوں کا منصوبہ سندھ کے نقصان میں ہے سندھ کے لوگوں کو یہ منصوبہ قبول نہیں ہے۔
نثار کھوڑو نے کہا کینالوں کے خلاف پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام کا احتجاج اپنے حق کے لیے ہے، ہماری پارٹی کینالوں کے خلاف احتجاج جاری رکھ کر اپنا جمہوری حق استعمال کرتی رہے گی۔
صدر پیپلزپارٹی سندھ کا کہنا تھا کہ جب تک 6 کینالوں کے منصوبے سے دستبرداری کا اعلان نہیں ہوگا احتجاجی تحریک جاری رہے گی، کینال منصوبے کے خلاف سب مل کر جدوجہد کر کے سندھ کی حفاظت کریں گے، سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالا گیا تو مزاحمت کریں گے۔