مودی سرکار مسلم دشمنی میں اندھی ہوگئی۔ مقبوضہ کشمیر میں عید پر پابندیاں مزید سخت کردی گئی۔
مودی سرکار نے تعمیرات کا بہانہ بنا کر سرینگر کی جامعہ مسجد میں نماز عید ادا کرنے سے روک دیا۔ میر واعظ عمر فاروق سمیت حریت رہنماوں کی جانب شدید مذمت کی گئی۔
دوسری جانب اتر پردیش میں عید کی نماز سڑک پر ادا کرنا ممنوع قرار دیا گیا۔ خلاف ورزی پر پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے جبکہ ریاست ہریانہ میں عید کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔
حریت رہنما عبدالحمید لون نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں عید الفطر کی نماز پر عائد پابندی کو افسوس ناک اور مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کو ان کے بنیادی مذہبی حقوق سے محروم کر رہی ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
عبدالحمید لون نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی جامع مسجد میں جمعۃ الوداع کے اجتماع پر پابندی عائد کی گئی تھی جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔