وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سماء نیوز کے پروگرام ’’ ریڈ لائن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے حکومت تگڑی ہے، کس نے کہا ہے اینکرز کوآف ایئر کر دیا جائے،یہ تومالکان کی اپنی پالیسی ہوتی ہے، اینکرز کوآف ایئر کرنے میں حکومت کا عمل دخل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی تعداد زیادہ ہو تو وزیراعظم سے سوال ہو سکتا ہے، وفاقی کابینہ کی تعداد آئین کے مطابق ہے، وفاقی کابینہ میں جتنے ارکان کی تعداد ہونی چاہیے وہ ہے، وفاقی کابینہ کا ایک قلمدان ایک ہی آدمی کو دیکھنا چاہیے، ایک آدمی کی اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ 3 قلمدان ایک ساتھ دیکھے، عون عباس بپی نے بتایا ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جو قابل مذمت ہے۔
راناثنااللہ کا کہناتھا کہ کسی کے بیڈ روم میں داخل ہونا غلط ہے، عون عباس بپی کو گرفتار کرنا تھا تو ان کوآگاہ کر دینا چاہیے تھا، جن لوگوں نے عون عباس کے گھر پر چھاپہ مارا،انہیں استحقاق کمیٹی میں بلانا چاہیے، جب تک سیاسی لوگ بیٹھ کر ان چیزوں پر غور نہیں کریں گے تو ایسا ہوتا رہے گا، ہم آج بھی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں،لیکن یہ تیارنہیں، پی ٹی آئی 26 نومبر کی روش پر گامزن رہے گی تو ہم ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔
مشیر وزیراعظم کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں کوئی مسئلہ نہیں، کوئی مسئلہ بن سکتا ہے تو وہ پانی کا ہے، نہروں کے معاملے پر مؤقف اختیار کرنا پیپلز پارٹی کی مجبوری ہے، کالاباغ ڈیم بن جائےتوپانی کی قلت کم ہوسکتی ہے۔