تونسہ شریف میں ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے مقامی آبادی اور صحت کے حکام کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تونسہ شریف میں سیکڑوں بچوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایک متاثرہ بچی کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی طبیعت مسلسل خراب رہنے کے بعد جب ٹیسٹ کروایا گیا تو ایچ آئی وی پازیٹیو نکلا ہےسرکاری ہسپتال میں غیر محفوظ طبی آلات اور غیر معیاری علاج اس بیماری کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ذرائع کے مطابق تونسہ کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ایک ہی سرنج کو بار بار استعمال کرنے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، جس کے باعث وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ایک بڑے صحت عامہ کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب گورنمنٹ ہسپتال تونسہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ایچ آئی وی کی اسکریننگ کی جاتی ہے اور سرنجیں تلف کی جاتی ہیں تاہم بعض اوقات تشخیصی کٹس کے نتائج مشکوک ہو سکتے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس معاملے پر توجہ دی جائے اور غیر معیاری طبی سہولیات کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ صورتحال مزید خراب ہونے سے بچائی جا سکے۔